خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 285

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء پہلے مخالف تھے مگر بعد میں انہوں نے بہت ترقی کی کہا کہ ایک دفعہ مجھے دشمنوں کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جنگ کیلئے جانا پڑا ایک موقع پر آپ ایسی جگہ تھے کہ میں آپ پر وار کر سکتا تھا مگر باپ سمجھ کر میں نے ایسا نہ کیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر نے کہا خدا کی قسم ! اگر میں ایسا موقع پا تا تو ضرور وار کر دیتا ہے ۔ تو آشد آن عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ کے یہی معنے ہیں کہ مومن جہاں ایک طرف حق کے عکس اور اثر کے مقابلہ میں ایسا نرم ہوتا ہے کہ ان کا معمولی دباؤ بھی برداشت نہیں کر سکتا اور ایسا ہوتا ہے جیسے تصویر لینے کا شیشہ۔ وہاں دشمن کے مقابل میں اس کی یہ حالت ہوتی ہے کہ بیٹے کی جان کی بھی اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی ۔ اس قسم کے اور بھی لوگ صحابہ میں موجود تھے۔ حضرت عثمان بن مظعون کے متعلق ایک اسی قسم کا واقعہ آتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شاعر جو کہیں باہر سے آیا ہوا تھا، اپنا کلام سنا رہا تھا۔ اس نے ایک شعر کا ابھی پہلا ہی مصرعہ پڑھا تھا کہ آپ نے کہا خوب ہے۔ اس پر وہ بہت جزبز ہوا۔ اور اس نے کہا مجھے تیرے جیسے انسان کی داد کی کیا ضرورت ہے۔ پھر اس نے اہلِ مکہ کو مخاطب کر کے کہا کہ کیا اب تمہارے ہاں شرفاء کی یہی قدر ہوتی ہے۔ اس کے بعد اُس نے دوسرا مصرعہ پڑھا تو آپ نے فرمایا یہ ٹھیک نہیں ۔ اس پر مکہ کے رؤسا میں سے ایک نے اٹھ کر آپ کو ایسا نگا مارا کہ آپ کی ایک آنکھ نکل گئی ۔ آپ اس واقعہ سے کچھ عرصہ قبل تک ایک شخص کی پناہ میں تھے۔ مگر خود ہی دوسرے مسلمانوں کی تکالیف کو دیکھ کر اس کی پناہ ترک کر دی تھی۔ وہ شخص آپ کا عزیز بھی تھا، یہ حالت دیکھ کر اسے رنج ہوا۔ اور اس نے کہا میری پناہ میں نہ رہنے کا نتیجہ تم انے نے دیکھ لیا۔ آپ نے جواب دیا میں اس قسم کا احسان اُٹھانے کو اب بھی تیار نہیں ہوں میری تو دوسری آنکھ بھی اسی کی اٹھنے کو بھی تیارنہیں ہو میری تو دوسری نکھ بھی اس کی منتظر ہے ہے ۔ تو صحابہ میں اور بھی کئی صدیق تھے۔ حضرت ابوبکر" تو ایک اعلیٰ نمونہ تھے۔ حضرت عثمان بن مظعون بعد میں شہید ہوئے۔ حضرت رسول کریم ملایا کہ تم کو آپ سے اتنی محبت تھی کہ وفات کے قریب تک محبت سے ان کا ذکر کرتے رہے۔ حتی کہ جب آپ کے صاحبزادہ حضرت ابراہیم کی وفات کا وقت آیا۔ تو آپ نے انہیں اپنی گود میں لیا۔ اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور آپ نے کہا۔ جا! اپنے بھائی عثمان کے پاس ہے ۔ - میں بتا رہا تھا کہ مومن کے اندر ایک طرف تو اتنی شدت ہوتی ہے کہ دوسرے کا اثر اس پر ہو ہی نہیں سکتا اور دوسری طرف ایسی نرمی ہوتی ہے کہ گویا اثر پہلے ہی پڑا ہوا ہوتا 283