خطبات محمود (جلد 14) — Page 280
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء آرام کرو۔ ہم کسی اور قوم کو کھڑا کر دیتے ہیں۔ تب اُس نے مسیح کی قوم کو چنا۔ اور مسیح کی قوم نے کام کیا، کام کیا اور کام کیا یہاں تک کہ جب اسے بھی ترقیات مل گئیں تو اس نے بھی کہا آؤ ہم آرام کریں۔ خدا تعالیٰ نے اسے بھی چھوڑ دیا۔ اور اس نے محمد صلی السلام کے ذریعہ مسلمانوں کو اپنے دین کی خدمت کیلئے چنا۔ جب مسلمان ترقی کر گئے تو انہوں نے بھی کہا آؤ ہم آرام کریں ۔ خدا تعالیٰ کی سنت کے ماتحت مسلمانوں کی ترقیات بھی معدوم ہو گئیں۔ اور اس نے عیسائیوں کے ذریعہ مسلمانوں کو خوب ریلا اور پیلا ۔ مگر چونکہ رسول کریم صلی الی تم سے وعدہ تھا کہ مسلمانوں کو دوبارہ زندگی عطا کی جائے گی۔ اس لئے اس نے آپ کے خلفاء میں سے ایک شخص کو کھڑا کر کے اس کی جماعت کے ذریعہ دین کا کام کرانا شروع کر دیا۔ پس آرام کا کوئی دن نہیں آئے گا۔ اور اگر ہماری جماعت نے بھی آرام کرنا چاہا تو جس دن ہماری جماعت بیٹھ جائے گی خدا ہماری جماعت کو چھوڑ کر کسی اور کو منتخب کرلے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے ہم کبھی آرام نہیں کرتے۔ما مَسَّنَا مِنْ لُغُوبِ ۵ ہم تو تھکتے نہیں ۔ جو تھک جاتے ہیں ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں۔ پس وہی قوم حقیقی طور پر دنیا میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے جو اللہ تعالیٰ کی صفت مَا مَسَّنَا مِنْ تُخُوب کا مظہر بنتی ہے اور ان تھک کوششیں جاری رکھتی ہے۔ پس بیدار بنو اور اپنی سُستی اور غفلت کی عادتوں کو چھوڑ دو کہ دین کے معاملہ میں سستی اور غفلت کبھی اچھا نتیجہ پیدا نہیں کرتی ۔ ا بخاری کتاب الایمان باب احب الدين الى الله ادومه ت النساء : ١٣٦ ( الفضل ۱۹۔ نومبر ۱۹۳۳ء) حضرت کعب بن مالک بخاری کتاب المغازی باب حديث كعب بن مالك " ه : ۳۹ 278