خطبات محمود (جلد 14) — Page 274
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہوں گے کہ وہ نیکیاں کما رہے ہیں۔ اگلے جہاں میں وہ نیکیاں ان کے نام نہیں لکھی ہوں گی اور یہ ایک نہایت ہی تکلیف دہ اور قابل افسوس بات ہے۔ چلا میں نے متواتر جماعت کو توجہ دلائی ہے کہ مومن کا فرض یہ ہے کہ وہ استقلال اور توجہ سے کام کرتا جائے ۔ یہ کوئی اچھا طریق نہیں کہ کچھ دن کام کیا اور پھر سو گئے ۔ رسول کریم صلی یتیم سے ایک دفعہ لوگوں نے پوچھا۔ یا رسول اللہ ! سب سے اچھا کام کون سا ہے۔ آپؐ نے فرمایا سب سے اچھا کام وہ ہے جس پر دوام اختیار کیا جائے ۔ ایک نیکی چاہے چھوٹی ہو مگر اس پر دوام رکھا جائے تو وہ اس بڑی نیکی سے افضل ہے جسے ایک دفعہ کر کے انسان پھر ترک کر دے۔ پس یہ کوئی مفید طریق نہیں کہ چند دن اپنے کاموں سے ایک شور سا پیدا کر دو اور پھر ہمیشہ کیلئے خاموش بیٹھ جاؤ۔ اور چند افراد میں یہ نقص ہو تو پھر تو کسی حد تک اسے برداشت بھی کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اگر اکثروں میں بلکہ جماعت کے کارکنوں تک میں یہ نقص پایا جاتا ہو تو کتنی افسوسناک بات ہوگی۔ میں نے دیکھا ہے بعض دفعہ نہایت معمولی معمولی نقصان کی وجہ سے بعض افراد اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کر دیتے ہیں ۔ ابھی ایک بڑی جماعت کے سیکرٹری کا مجھے خط ملا ہے۔ اس جماعت کے ڈیڑھ دو سو افراد ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ چونکہ جماعت کے دوست شہر کے دور دور حصوں میں رہتے ہیں اس لئے چندہ کی وصولی کیلئے میرا سب کے پاس جانا مشکل ہوتا ہے اور اس وجہ سے چندہ وصول نہیں ہوتا۔ کوئی اس سے پوچھے کہ اگر تمہارے لئے چندہ کا وصول کرنا مشکل ہے تو پھر تم نے یہ ذمہ داری لی ہی کیوں کہ تم چندہ وصول کیا کرو گے؟ اور اگر تمہارا حوصلہ اتنا ہی گرا ہوا تھا کہ مہینہ میں تم وصول انہی ہواتھا کہ ایک دفعہ بھی تم دوستوں کے پاس نہیں جا سکتے تھے تو پھر تمہیں یہ عہدہ لینے اور سیکرٹری مال کہلانے کی کیا ضرورت تھی۔ پھر اگر تم نے محض ثواب کی نیت سے یہ عہدہ لیا تھا اور اتنی ہمت نہیں تھی کہ لوگوں کے پاس پہنچتے تو یوں بھی کر سکتے تھے کہ مختلف محلوں میں اپنے نائب مقرر کر دیتے۔ اور اگر نائب بھی خود مقرر نہیں کر سکتے تھے تو اپنے امیر یا انجمن کے پریذیڈنٹ سے کہتے کہ میں سب جگہ نہیں پھر سکتا، میرے لئے نائب چاہئیں ۔ مگر اس نے صرف عہدہ لے لیا اور سمجھ لیا کہ اب مجھے ثواب مل جائے گا۔ کیونکہ میں نے اتنی ذلت جو برداشت کر لی کہ جماعت احمدیہ کا سیکرٹری کہلا نا شروع کر دیا۔ اس کے بعد آنکھیں بند کر کے بیٹھ گیا اور سمجھ لیا کہ دنیا کا سارا ثواب کھیچ کھچا کر اس کے نامہ اعمال میں درج ہونا شروع ہو جائے گا۔ میں نے چھرم 272