خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 246

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ نیند ان پر غالب ہوتی ہے۔ وہ آٹھ نو بلکہ دس بجے صبح تک سوتے رہیں گے۔ کیونکہ جتنا کوئی شخص نیند کو بڑھانا چاہے اسی قدر وہ بڑھتی چلی جاتی ہے اور کسل زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو اگر کوئی دس بجے بھی جگائے تو وہ سستی سے آنکھیں ملتے جمائیاں اور انگڑائیاں لیتے اٹھیں گے۔ اور یوں معلوم ہوگا کہ گویا انہیں سوئے ابھی دو منٹ ہی ہوئے تھے کہ جگا دیا گیا۔ مگر دوسرا شخص جس نے نیند کو اپنے قابو میں کیا ہوتا ہے۔ اگر اس کے سوتے ہوئے پاس سے بھی کوئی شخص گزر جائے تو وہ جاگ اٹھتا ہے خواہ شروع رات میں کوئی گزرے یا آخر رات میں۔ یہی کیفیت روحانی حالت میں بھی ہوتی ہے۔ بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ آپ ہی آپ ان کی آنکھ کھلتی رہتی ہے اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد وہ جاگتے ہیں۔ اور اگر وقت نہیں ہوتا تو پھر سو جاتے ہیں۔ پھر آنکھ کھل جاتی ہے اور وہ ذکر الہی کر لیتے ہیں۔ یا بعض ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ کسی کے گزرنے سے تو ان کی آنکھ نہیں کھلتی۔ جوانی کا غلبہ ہوتا ہے اور وہ سوئے چلے جاتے ہیں۔ مگر وقت پر اٹھ بیٹھتے ہیں جیسے تہجد کی نماز یا فجر کی نماز کے وقت تو جیسی جیسی کسی کو توفیق ہوتی ہے، اس کے مطابق وہ جاگ اُٹھتا اور اپنے کام میں مشغول ہو جاتا ہے۔ مگر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ وہ سوئے چلے جاتے ہیں اور نہیں جاگتے جب تک کوئی شخص انہیں آکر نہ جگائے۔ اسی طرح روحانیت میں بھی ہوتا ہے۔ مومن تو سب کہلاتے ہیں مگر تبلیغ اور روحانیت کی ترقی کی طرف بعض لوگ توجہ نہیں کرتے۔ جب تک کوئی شخص انہیں توجہ نہ دلائے ۔ ایسے لوگوں کو کبھی سیکرٹری تبلیغ بیدار کرتا ہے، کبھی پریذیڈنٹ بیدار کرتا ہے۔ یہ لوگ انگڑائیاں لیتے آنکھیں ملتے اور سستی ظاہر کرتے ہوئے اُٹھتے ہیں۔ اور جیسے نیند کا متوالا کہتا ہے یہ بھی کہتے ہیں اتنی جلدی کیا ہے۔ آپ فکر کیوں کرتے ہیں زیادہ دیر تو نہیں ہوئی۔ پھر تھوڑی دیر مر تھوڑی دیر بیٹھے رہیں گے، حیران ہوں گے کہ ان لوگوں کو جلدی کی کیوں فکر پڑی ہے اور جب زیادہ اصرار کیا جائے گا تو اُٹھ بیٹھیں گے۔ اور دوسروں کے ساتھ مل کر تبلیغ میں مشغول ہو جائیں گے۔ غرض ایسی طبائع کیلئے ضروری ہے کہ بیداری کے سامان مہیا کئے جائیں ۔ اور ایسے ہی سامانوں میں سے ایک تبلیغ کا دن بھی ہے۔ چونکہ اس دن ساری جماعت فیصلہ کر لیتی ہے کہ وہ تبلیغ میں حصہ لے گی اس لئے سست لوگ بھی اُٹھ بیٹھتے ہیں ۔ خواہ وہ شکایت ہی کرتے ہوئے اُٹھیں ، احتجاج کرتے ہوئے اٹھیں ۔ مگر بہر حال اٹھ بیٹھتے ہیں اور تبلیغ میں مشغول ہو جاتے 244