خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 19

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ایک گلی میں چلتے چلتے یکدم رک جائیں اور پھر دیکھیں کہ اردگرد کیا چیزیں ہیں تو کئی چیزیں ایسی دکھائی دیں گی جو پہلے کبھی خیال میں بھی نہیں آئی ہوں گی ، حالانکہ سالہا سال سے اس گلی میں سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اتنی مختلف انواع کی چیزیں پیدا کی ہیں کہ انسان کو ان سب پر غور کرنے کا موقع ہی نہیں ملتا اور انسان جو کچھ دیکھتا ہے اس کے ہزارویں بلکہ لاکھویں حصہ پر بھی عور نہیں کرتا ۔ اثر ضر ہوا کا ہر جھونکا جو ہمارے جسم کو لگتا ہے، وہ ایک اچھا یا برا اثر ہمارے اندر ضرور پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ہر ہوا کا کش جو ہم ناک سے لگاتے ہیں ، وہ اچھی یا بری کیفیت پیدا کرتا ہے۔ اسی طرح ہر دفعہ جب ہم اپنی وہ یا کرتا آنکھ جھپکتے ہیں اور نور کی شعاعوں یا ظلمت کی تاریکی کو دیکھتے ہیں تو دل اور دماغ اور جسم اور روح پر اچھا یا برا مرور قائم ہوتا ہے مگر ہم کتنی دفعہ اس اثر کومحسوس کرتے ہیں۔ وہ ہوا کا جھونکا جو ہمارے اندر بیماری کے جرمز پیدا کر دیتا ہے یا نمونیہ کی طرف جسم کو راغب کر دیتا ہے یا وہ پانی کا قطرہ جس کے پیتے ہی ہیضے کی طرف طبیعت مائل ہو جاتی ہے یا وہ سیدھا سادھا سانس جو سل کے جراثیم لے کر ہمارے جسم میں داخل ہوتا ہے۔ ہم کب اس کے اثرات محسوس کرتے ہیں۔ ہمیں تو یہ پتہ بھی نہیں لگتا کہ ہم نے ایسا سانس لیا ہے جو کل ہمیں بد ہضمی کا شکار بنادے گا۔ یا ایسا قطرہ پانی کا پیا ہے جو ہیضہ کا شکار کر دے گا۔ پس اگر ہم غور وفکر سے کام لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ کتنی ہی ایسی چیزیں ہیں جن پر غور کرنے کا ہمیں موقع نہیں ملتا۔ تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ غافل انسان ادھر توجہ نہیں کرتا ۔ اگر تم یہ کہو گے تو یہ تمہاری بیوقوفی ہوگی ۔ کیونکہ اگر انسان تمام کی تمام چیزوں پر غور کرنے لگے تو نہ صرف یہ کہ اس کا علم نہ بڑھے بلکہ اور بھی کم ہو جائے ۔ مثلاً اگر وہ یہی سوچنے لگے کہ ہوا کا جھونکا جو مجھے لگا ہے، اس نے اچھا اثر پیدا کیا ہے یا بُرا۔ اور اُٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے ہوتے جاگتے ، چلتے پھرتے یہی ایک خیال اس پر سوار رہے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ نہ وہ تجارت کر سکے گا، نہ زراعت نہ ملازمت کر سکے گا نہ کوئی اور کاروبار ۔ وہ یہی سوچتا ر ہے گا کہ یہ ہوا کا جھونکا جو مجھے لگا تھا، اچھا تھا یا برا تھا۔ اب غور کرو ! اس طرح سوچتے رہنے سے اس کا علم بڑھے گا یا کم ہوگا ۔ اسی طرح اگر ہم ہر پانی کے قطرہ کے متعلق یہ سوچنے لگیں کہ اس نے ہمارے جسم پر اچھا اثر پیدا کیا ہے یا برا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم بجائے علم میں ترقی کرنے کے علم سے محروم رہ جائیں گے۔ پس جو 17