خطبات محمود (جلد 14) — Page 227
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء انہوں نے کہا اے عمر! کیا آپ خدا کی قضاء سے بھاگتے ہیں آتفِرُ مِنْ قَضَاءِ اللهِ ۔ آپ نے فرمایا ۔ آفر مِنْ قَضَاءِ اللَّهِ إِلَى قَضَاءِ الله ۱۳ ہاں میں خدا کی قضاء سے بھاگ کر خدا کی قضاء کی طرف ہی جا رہا ہوں۔ خُدا کی خدائی سے تو باہر نہیں جا رہا۔ یہ صحابہ کا طریق عمل موجود ہے۔ اور گو ایک صحابی نے غلطی بھی کی لیکن کثرت نے غلطی نہیں کی مگر یہاں ہر محلہ میں ایسی مثالیں پائی گئیں کہ لوگوں نے نظام کا مقابلہ کیا۔ حالانکہ یہاں صرف ان کی ذات کا یا ان کے بیوی بچوں اور محلے والوں کی زندگی کا سوال نہیں تھا بلکہ قادیان والوں کی عزت اور خود قادیان کی عزت کا سوال تھا۔ مگر اتنی چھوٹی سی بات پر کہ کنوؤں میں دوائی ڈالی گئی۔ بعض نے برا منایا، علاج کرانے سے انکار کیا گیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ مریضوں کے ساتھ شروع شروع میں وہ سلوک نہیں ہوا ہونا چاہئے تھا۔ مگر ان سب باتوں کا علاج ہوسکتا تھا اور وہ علاج یہ تھا کہ براہ راست میرے پا شکای جاتی۔ جہاں میں اس بات کو سخت نا پسند کرتا ہوں کہ مقررہ نظام سلسلہ کی پابندی نہ کرتے ہوئے کوئی معاملہ براہ راست میرے سامنے پیش کیا جائے۔ وہاں میں کئی دفعہ بتلا چکا ہوں کہ ایسی باتیں جو وقتی ہوتی ہیں اور فوری اصلاح کی محتاج ان میں کسی انتظار کی ضرورت نہیں ہوتی۔ میرے سامنے فوڑ اوہ معاملہ پیش کرنا چاہئے مگر لوگ اس کے برعکس کرتے ہیں۔ بعض دفعہ نہایت ہی ضروری مضمون سامنے ہوتا ہے، توجہ اس کی طرف لگی ہوتی ہے، دروازہ زور زور سے کھٹکھٹایا جاتا ہے۔ اور جب کنڈی کھولی جاتی ہے تو ایک چھوٹا سا بچہ ہوتا ہے جس کے ہاتھ میں ایک رقعہ ہوتا ہے اور اس میں لکھا ہوتا ہے میرے لئے دعا کریں۔ محمد احمد طالب علم جماعت دہم ۔ بھلا یہ بھی کوئی رقعہ میں لکھنے والی بات تھی۔ وہ مجھ سے زبانی بھی یہ کہہ سکتا تھا۔ اور مسجد میں آنے کے وقت کہہ سکتا تھا مگر اس طرح سارا دن رقعوں پر رقعے چلتے ہیں جن میں کوئی ضروری بات نہیں ہوتی لیکن کوئی اہم امر جو فوری توجہ کا محتاج ہو اس کے متعلق اطلاع دینے میں سستی دکھائی جاتی ہے۔ پس ہر بات سوچ سمجھ کر کرنی چاہئیے ۔ دعا کیلئے اس طرح رقعے لکھنے وقت کو ضائع کرنا ہوتا ہے۔ بہترین طریق یہ ہے کہ جسے ضرورت ہو وہ خاص موقعوں پر زبانی یاددہانی کرا دے۔ ورنہ یوں تو ہمیشہ ہی دعا ہوتی رہتی ہے۔ خاص موقعوں کی دعا اہمیت رکھتی ہے۔ اور اس وقت بھی زبانی یاد کرانا رقعہ لکھنے کی نسبت زیادہ بہتر ہوتا ہے ۔ سوائے ان لوگوں کے جو قادیان سے باہر رہتے ہیں یا سوائے ان بیماروں کے جو قادیان میں ہوں مگر چل کر نہ آسکتے ہوں۔ ان کے 225