خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 215 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 215

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء بڑی بے حیائی کی ۔ اگر تو اپنی ماں، بہن یا بیوی کو ڈھولک کے ساتھ گانے کیلئے تیار کرتا۔ اور اس کا گانا لوگوں کو سنا تا تو یہ اتنا معیوب نہ ہوتا جتنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام کا مزامیر کے ساتھ گانا تیار کرانا۔ اور جماعت کا فرض ہے کہ اس کے خلاف گورنمنٹ کے پاس سخت پروٹسٹ کرے کہ ایسے ریکارڈ کو ضبط کیا جائے ۔ کیونکہ اگر یہ رستہ کھل گیا تو کل کوئی تھئیٹر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی نقل کرنے کیلئے تیار ہو جائے گا ۔ عام ریکارڈوں میں طبلہ وغیرہ سن لینا تو ایسا ہی ہے جیسا کوئی پاخانہ میں چلا جاتا ہے۔ اب کوئی کہے کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر پاخانے میں لڑکا دی ہے۔ تو ہم اس کے خلاف سخت اظہار نا پسندیدگی کریں گے یا نہیں؟ بعض چیزوں کی غفلت کی حالت میں اجازت ہو سکتی ہے جیسے کھیل ہے۔ عام لوگوں کیلئے کھیلنے کی اجازت تو ہے مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ خدا کا کوئی نبی کرکٹ یا فٹ بال کی الیون میں ملازم ہو گیا ہو۔ کسی بات کا جائز ہونا اور بات ہے مگر اس کا مقام ادنی ہونا اور بات ہے۔ اللہ تعالی کے کلام کو اعلیٰ مقام پر رکھنا مومن کا فرض ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نظموں کا ڈھولک وغیرہ سے گانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی قرآن شریف کو زمین پر رکھ دے۔ بظاہر تو اس میں حرج معلوم نہیں ہوتا مگر ایسا کرنے والے کے دل پر زنگ لگ را جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا کلام اس لئے ہوتا ہے کہ اسے پڑھنے سے دل میں خشیت الہی پیدا ہو۔ مگر ڈھولک وغیرہ طرب پیدا کرنے والی چیزیں ہیں جو خشیت کے منافی ہیں۔ ابن سیرین سے کسی نے بیان کیا کہ فلاں شخص کو قرآن پڑھنے پر حال آجاتا ہے۔ آپ نے کہا کہ اس کو کسی پتلی دیوار پر بٹھا کر قرآن پڑھایا جائے پھر سارا قرآن پڑھنے پر بھی اگر اُسے حال آجائے تو کہنا۔ بعض لوگوں کی جنون کی حالت ہو جاتی ہے۔ ایسے لوگ ممکن ہے ایسی دیوار پر جا بیٹھیں ۔ مگر ایسے لوگ پہلی صدیوں میں نہیں تھے بعد میں ہوئے ہیں۔ جن کو عادت ہو جائے انہیں خواہ مینار پر بیٹھا دو پھر بھی یہی حالت ہو جائے گی۔ مگر عام طور پر یہ حالت نہیں ہوتی اس سے بہر حال یہ پتہ لگتا ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین کا اس کے متعلق کیا خیال تھا۔ حالانکہ قرآن کریم کو عمدگی سے پڑھنے کا حکم ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا لے مگر خوش الحانی علیحدہ چیز ہے اور راگ علیحدہ۔ راگ میں الفاظ کو مد نظر نہیں رکھا جاتا بلکہ سر اور تال کو دیکھا جاتا ہے۔ مگر خوش الحانی میں صرف آواز کا ہی خیال ہوتا ہے۔ الفاظ کو نہیں بگاڑا جاتا۔ اور ڈھولک تو بالکل ہی اور چیز ہے۔ اس کے سننے سے اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں پیدا نہیں 213