خطبات محمود (جلد 14) — Page 17
خطبات محمود لد اللہ تعالیٰ کے عفو کا صحیح مفہوم سمجھنے کی کوشش کرو فرموده ۱۷۔ فروری ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ ابھی تک میری آواز چونکہ ایسی نہیں کہ میں اس قدر اونچا بول سکوں کہ تمام دوست اسے بخوبی سن سکیں۔ اس لئے مجبور اجس حد تک میری آواز اُٹھ سکتی ہے، اس حد تک اپنی طاقت کے مطابق بولوں گا۔ اور اپنے مافی الضمیر کو جہاں تک اپنی آواز پہنچا سکوں، پہنچانے کی کوشش کروں گا۔ مجھے ایک عجیب کمزوری جماعت میں نظر آتی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رحم ، اس کے عفو، اس کے فضل اور اس کے کرم کا غلط مفہوم جماعت میں پیدا ہو رہا ہے بعض لوگ حقیقت کا اندازہ لگانے سے دانستہ یا نا دانستہ ہچکچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے عفو اور اس کی رحمت کے متعلق آیتوں کو غلط اور بے محل استعمال کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ بہت رحم کرنے والا اور بہت کرم کرنے والا ہے۔ لیکن ہم دنیا میں شبہ اس کی دوسری صفات کو بھی ہر وقت ظاہر ہوتا دیکھ رہے ہیں ۔ ہم روزانہ لوگوں کو بیمار ہوتا دیکھتے ہیں، روزانہ اندھوں اور گونگوں اور لنگڑوں اور لولوں کو دیکھتے ہیں۔ ہم ماں باپ کے اکلوتے بچوں کو مرتے دیکھتے ہیں ۔ ہم خاندان میں سے ایک ہی روزی کمانے والے مرد کو جان دیتے دیکھتے ہیں ۔ ہم دودھ پیتے بچہ کو چھوڑ کر دنیا سے گزر جانے والی ماں کو دیکھتے ہیں ۔ آپس میں عشق و محبت رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے جدا ہوتے دیکھتے ہیں۔ غرض یہ نظارے ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ ہیں۔ اور خدا کے یہ افعال روزانہ افعال روزانہ ہماری آنکھوں کے سامنے 15