خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 205 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 205

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء کو حکما جمع کر کے اپنے درس میں صرف ان کو شامل ہونے کی اجازت دوں جو پہلے درس میں شامل ہوئے تھے۔ اور اس طرح لوگوں کے دلوں میں ندامت پیدا کروں لیکن پھر مجھے خیال آیا کہ گو اس سے بعض لوگوں کی اصلاح ہوگی ۔ لیکن بعض لوگ بے حیائی میں ترقی کر جائیں گے اس لئے میں نصیحت کے طور پر، آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ قادیان میں آپ لوگوں کا آنا قرآن مجید اور دین سیکھنے کیلئے ہے۔ اگر یہاں کی زندگی سے کوئی برکت حاصل کرنی ہے تو اس طریق سے حاصل کرنی چاہئیے جس سے حاصل ہو سکتی ہے۔ یاد رکھو ہر چیز کیلئے خدا تعالیٰ نے دروازے مقرر کئے ہیں۔ اور ان سے گزرے بغیر کبھی کامیابی نہیں ہو سکتی ۔ قرآن مجید نے اس مضمون کو نہایت وسیع طور پر بیان فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ ہمیشہ گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔ اس سے لو ہے، اینٹ، پتھر یا لکڑی کے ہی دروازے مراد نہیں کیونکہ آج کل ہر قسم کے دروازے تیار ہو رہے ہیں۔ بلکہ گھر سے تمام وہ چیزیں مراد ہیں جو انسان کے آرام کا موجب ہوں۔ جب تک انسان ان دروازوں سے داخل نہ ہو جن سے آرام حاصل کیا جا سکتا ہے اُس وقت تک آرام حاصل نہیں ہوتا۔ مثلاً دنیاوی علوم ہیں جو استاد سے سیکھے بغیر نہیں آتے ۔ روحانی علوم خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کئے بغیر اور اس کے احکام پر چلنے اور شعائر اللہ کا ادب اور احترام کرنے اور قرآن مجید پر غور و تدبر کرنے اور اسے سمجھنے کی کوشش کئے بغیر نہیں حاصل ہوتے۔ روحانیت اس وقت تک حاصل نہیں ہو سکتی جب تک اپنے اندر عشق ، سوز و گداز اور تڑپ پیدا نہ کی جائے۔ پس قرآن مجید کے درس کو نظر انداز کر دینا سخت نادانی اور غفلت ہے۔ استاد اپنے شاگرد کے علم سے خوب واقف ہوتا ہے۔ اور گوشاگرد بعض دفعہ سمجھتا استاد علم سے ہوتا اور ہے کہ میں استاد سے بھی زیادہ لائق ہو گیا ہوں مگر استاد جانتا ہے کہ شاگرد کی علمی قابلیت کس حد تک ہے۔ پس گو آپ لوگ اپنے آپ کو قرآن سننے سے مستغنی سمجھیں اور خیال کریں کہ آپ لوگوں کو بہت قرآن آتا ہے مگر میں آپ لوگوں کا استاد ہوں ۔ اور میں جانتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے ایک فیصدی بھی ابھی قرآن کو پوری طرح سے نہیں سمجھے۔ نناوے فیصدی لوگ محتاج ہیں اس بات کے کہ وہ بار بار درس سنیں یہاں تک کہ موت سے پہلے ان پر ایسا وقت آ جائے کہ وہ قرآن کا کچھ نہ کچھ فہم رکھتے ہوں ۔ پس اگر آپ لوگ سمجھتے بھی ہوں کہ آپ عالم قرآن ہیں تو کم از کم آپ کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ آپ کے استاد کی رائے یہی ہے کہ آپ ابھی قرآن نہیں جانتے اور اس کی نصیحت آپ کو یہی ہے کہ چونکہ 203