خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 191 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 191

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سے مقابلہ کرنا پڑتا۔ تو بائیں طرف یونانیوں سے تہذیب کے گہوارہ میں پلی ہوئی تین قوموں یونانیوں، ایرانیوں اور مصریوں سے انہیں واسطہ پڑتا۔ وہ تینوں کے طریق کار سے واقف تھے۔ وہ خود بھی مہذب اور بڑے بڑے شہروں میں رہنے والے تھے۔ اور بنی اسرائیل سے قریبا دس گنے زیادہ تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب میں یہ قوم دکھا کر اپنی قوم سے کہا کہ اس قوم کو ماردو، پھر حکومت تمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔ ۔ بنی اسرائیل پر حیرت کا اظہار کرنا آسان ہے لیکن ذرا سوچو! تمہارا ایک دوست تمہاری دعوت کرے۔ وقت مقررہ پر وہ آکر تمہیں بلا لے جائے ۔ جب وہ بازار میں پہنچے تو ایک بڑے ہوٹل میں چلا جائے ۔ جہاں ہر ایک چیز پانچ چھ گنا زیادہ قیمت پر ملتی ہے۔ اور کہے کہ یہ ہوٹل ہے اس پر آپ آٹھ دس روپیہ خرچ کر کے کھانا کھا سکتے ہیں۔ دوسری طرف ایک ایسا مکان بھی ہے جہاں سے کھانوں کی خوشبو آ رہی ہے۔ آپ اندر ٹھس جائیں، ان کے سر لٹھ سے پھوڑ دیں اور کھانا لے لیں۔اس جواب کو سن کر تمہاری حالت کیا ہو گی ۔ تم اس کو ذلیل کرنے والا تمسخر خیال کرو گے اور اس دوست سے ناراض ہو جاؤ گے۔ شاید تم میں سے جو شیلے ایسے دوست پر حملہ ہی کر بیٹھیں ۔ یہی حالت یہاں ہے سینکڑوں میل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو اس وعدہ پر کہ وہاں انہیں بادشاہت ملے گی ، لائے مگر وہاں پہنچ کر انہیں کہہ دیا اس قوم کو مار دو اور ان سے حکومت چھین لو۔ اس جہالت کو دیکھ کر جو بنی اسرائیل میں اُس وقت پھیلی ہوئی تھی ، خیال کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اس جواب پر سر پیٹ لیا ہوگا۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف جاسکتا ہے کہ دیکھتے ہوں گے کہ تم نے وعدے کیا کئے تھے اور اب کہہ کیا رہے ہو۔ وہ کہتے ہوں گے وہیں ہمیں کہ فرعون کا سر اڑا دو اور حکومت چھین لو۔ وہاں پر تو ہم کر بھی سکتے تھے کیونکہ ہمارے آدمی فرعون کے گھروں میں کام کرتے تھے۔ وزراء ہمارے واقف تھے اور کئی سہولتیں ہمیں میسر تھیں لیکن یہاں پر زبان اور ہے، اس لئے ہم جاسوسی بھی تو نہیں کر سکتے ۔ وہ ذرائع ہمیں یہاں میسر نہیں۔ ان لوگوں کو مارنا بھلا کون سا آسان کام تھا کہ تم ہمیں وہاں سے نکال لائے اور یہاں آکر کہہ دیا کہ ان کو مار دو اور ملک پر قبضہ کر لو۔ یہ خدا کا وعدہ تھا لیکن خدا انہیں نظر نہیں آتا تھا، ورنہ اس سے ہی جھگڑا کرتے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام انہیں نظر آتے تھے۔ بظاہر حالات انہوں نے شرافت سے کام لیا۔ ورنہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر حملہ آور ہوتے کہ تم نے ہمارے ساتھ دھوکا کیا۔ بائیبل 189