خطبات محمود (جلد 14) — Page 179
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہوئی ہے۔ پاؤں ۔ مگر افسوس کہ آج میں چار پائی پر پڑا مر رہا ہوں اور مجھے میدانِ جنگ میں شہادت نصیب نہ 1 - حضرت خالد بن ولید جنگوں میں شریک ہوتے رہے ہیں ۔ کون کہہ سکتا ہے کہ انہیں شہادت نصیب نہیں ہوئی۔ تلوار کا ہر زخم جو انہیں لگا ان کیلئے شہادت تھی ۔ مگر منشاء الہی یہی تھا کہ اُن کی وفات اُن کے زخموں سے نہ ہو۔ غرضیکہ یہی وہ قربانی ہے جس کے نتیجہ میں ترقی حاصل ہو سکتی ہے۔ جسے دشمن خودکشی سمجھے مگر مومن جانتا ہو کہ اگر چہ یہ خود کشی نظر آتی ہے مگر میرے لئے خود کشی نہیں بلکہ ترقی کا ذریعہ ہے۔ پھر یہی وہ قربانی ہے جسے دیکھ کر منافق کہتے ہیں کہ یہ لوگ بیوقوف ہیں ۔ اور پھر ہمیں بھی بیوقوف بنانا چاہتے اور کہتے ہیں کہ تم بھی اسی طرح قربانی کرو۔ غرضیکہ دشمن اور کمزور ساتھی سب اسے ہلاکت سمجھتے ہیں مگر مومن جانتا ہے کہ یہ زندگی قائم کرنے کا ذریعہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جس کے ساتھ حقیقی راحت حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن جب تک نظر آنے والے زہر کی آخری مقدار میں سے ایک قطرہ بھی کم ہے اُس وقت تک قربانی نہیں ۔ قربانی کے معنی موت کے ہیں ۔ اور تم نے جو کچھ کیا اگر اس کے بعد زندہ رہ سکتے ہو تو وہ قربانی نہیں۔ پس اس رویا سے میں نے سمجھا کہ خود ساختہ مضمون بیان کرنے کی بجائے یہی بیان کروں اور جماعت کو بتاؤں کہ تمہارے لئے ایک دروازہ کامیابی کا کھلا ہے اور وہ موت کا دروازہ ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہو تو جنون کی حالت پیدا کرو۔ کیونکہ جب انسان اپنی زندگی کو خدا کی راہ میں قربان کر دیتا ہے، جب دوست دشمن سب سمجھنے لگتے ہیں کہ یہ مرنے لگا ہے اور جس وقت صرف ایک کھڑ کی کھلی ہوتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کی آواز آتی ہے جو بتاتی ہے کہ یہ ہلاکت نہیں ۔ مگر انسانی علم اسے زندگی نہ کہہ سکے صرف خدا کا علم ہی بتائے کہ یہ موت نہیں ، اُس وقت تم حقیقی ترقی حاصل کر سکتے ہو۔ رسول کریم صلی یا اسلام کے زمانہ میں دیکھو مسلمانوں میں کیسی نیکی کیلئے رقابت پائی جاتی تھی۔ کسی شخص نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کام تو آپ نے بھی بڑے بڑے کئے ہیں پھر کیا وجہ ہے ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعریف لوگ زیادہ کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ابوبکر کا مقام اُسی کے ساتھ ہے۔ میرے دل میں بھی نیکی میں اُن سے آگے بڑھنے کا خیال تھا۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی الا السلام نے مالی قربانی کا ارشاد فرمایا اور رقابت کے خیال سے میں نے اپنے دل میں کہا کہ میں آج ابوبکر کو شکست دوں گا چنانچہ آپ نے اپنا آدھا مال لیا اور رسول کریم صلی السلام کی خدمت میں حاضر کر دیا۔ اُس وقت میرا دل فخر سے پر تھا کہ آج میں 177