خطبات محمود (جلد 14) — Page 168
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء اس میں یہ گر بتلایا گیا ہے کہ اگر کسی چیز کو روشن کرنا ہو تو خدا تعالیٰ کی محبت کو اس میں داخل کر دو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ چیز روشن ہو جائے گی ۔ اگر وہ نور مکان میں نازل ہوگا تو وہ مکان روشن ہو جائے گا۔ اگر دل پر نازل ہو گا تو دل روشن ہو جائے گا۔ یہی نور جب بیت اللہ پر نازل ہوا تو وہ روشن ہو گیا۔ ورنہ بیت اللہ کیا ہے اینٹوں اور پتھروں کا ایک گھر ہی ہے۔ پھر یہی نور مسجد نبوی پر نازل ہوا تو اُسے منور کر دیا، ورنہ ایک گارے کی عمارت سے زیادہ اس کی کیا حیثیت تھی۔ پھر یہی نور جب رسول کریم صلی ا لی ایم کے دل پر نازل ہوا تو آپ سورج بن گئے۔ یہی معنے ہیں اللهُ نُورُ السَّمَاتِ وَالْأَرْضِ کے، کہ زمین و آسمان میں جس چیز کو بھی روشن کرنا ہو اس میں اللہ تعالیٰ کا نور داخل کر دو وہ منور ہو جائے گی ۔ مکہ کی عمارت کیا ہے۔ ایک ادنی قسم کے پتھروں کی بنی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں تاج محل کی کتنی شاندار عمارت ہے۔ مگر کتنوں نے تاج محل سے نور حاصل کیا اور کتنوں کو مکہ سے ہدایت ملی۔ اسی طرح قرآن کیا ہے۔ وہی حروف ہیں جن کو ہم روزانہ بولتے ہیں ۔ وہی کاغذ ہیں جن پر گندے سے گندے مضامین بھی لکھے جاتے ہیں۔ وہی سیاہی ہے جس سے فحش اشعار بھی لکھے جاتے ہیں۔ پھر انہی پتھروں کے ذریعہ قرآن چھاپا جاتا ہے جن پر غلیظ سے غلیظ گالیاں بھی چھاپی جاتی ہیں ۔ مگر اسی سیاہی سے لکھا ہوا اور اسی کاغذ پر چھپا ہوا جب قرآن آتا ہے تو وہ دنیا کی ہدایت کا موجب بن جاتا ہے۔ یہ کیا چیز ہے وہی ہے جسے اللهُ نُورُ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ میں بیان کیا گیا ہے۔ چونکہ خدا اس میں آ گیا اس لئے یہ دنیا کی ہدایت کا ذریعہ بن گیا۔ پس جہاں خدا تعالیٰ ہے وہ نورانی ہے۔ اور جہاں وہ نہیں وہاں ظلمت اور سیاہی کے سوا اور کچھ نہیں۔ خدا تعالیٰ کی محبت ایسی چیز ہے جو انسان کو منور کر دیتی ہے۔ جس دل میں یہ نہیں وہ ظلمتوں سے پر ہے۔ یہ چیز ہے جو اپنے دل میں پیدا کرو۔ دنیا کے علوم کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔ بڑے بڑے ڈاکٹر ، بڑے بڑے ماہر دنیا میں ایسے ہوتے ہیں جو مصیبت کے وقت خود کشی کر لیتے ہیں۔ کروڑوں روپیہ گھر میں پڑا ہوتا ہے مگر دیوالیہ کے خطرہ سے اپنے آپ کو گولی مار کر مر جاتے ہیں۔ ادھر رسول کریم صلی السلام کے ساتھیوں کا طریق عمل یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے اموال کو قربان کیا، جانوں کو فدا کیا، پھر بھی مایوس نہ ہوئے کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کی حفاظت کرے گا۔ جن دشمنوں نے رسول کریم صلی ای ایم کا تعاقب کیا اگر ایسے ہی دشمن آج یورپ کے بڑے سے بڑے بادشاہ کا بھی تعاقب کریں اور موقع پر پہنچ جائیں تو میں سمجھتا ہوں سوائے اس 166