خطبات محمود (جلد 14) — Page 161
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء ہو جاتا ہے ھے۔ وہ جنت کے دروازہ پر بیٹھا ہوا تھا، صرف اس میں داخل ہونے کی دیر تھی مگر مرتد ہو جاتا ہے۔ اور مرتد بھی کتنا خطرناک۔ بعض انسان کمزوری اعمال کی بناء پر مرتد ہوتے ہیں اور بعض اس لئے مرتد ہوتے ہیں کہ ان کا خیال ہوتا ہے جو قدر ان کی کی جانی چاہئے تھی ، وہ نہیں ہوئی۔ مگر وہ اس لئے مرتد ہوتا ہے کہ نَعُوذُ بالله رسول کریم صلی السلام دھو کے باز ہیں اور اپنے پاس سے وحی بناتے ہیں۔ گویا ٹھو کر بھی لگی تو انتہائی کئی ٹھوکریں ایسی ہوتی ہیں جو درمیانی درجوں پر لگتی ہیں۔ مثلا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ڈاکٹر عبد الحکیم کو ٹھوکر لگی۔ مگر وہ مرتد ہو کر جہاں یہ کہتا تھا کہ مرزا صاحب نَعُوذُ بِالله ) بڑے دھو کے باز ہیں، فریبی اور مکار ہیں۔ وہاں یہ بھی کہا کرتا تھا کہ آپ کا اللہ تعالیٰ سے تھا اللہ تعالی سے تعلق بھی ہے گویا وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مفتری قرار نہیں دیتا تھا۔ مگر یہ شخص معمولی سی بات پر یکدم یہ نتیجہ نکال لیتا ہے کہ نَعُوذُ بالله رسول کریم صلی ا الیم اپنے پاس سے باتیں بنا لیتے ہیں۔اس کے مقابل میں ہم ایک اور شخص کو دیکھتے ہیں۔ رسول کریم ملایم منبر پر کھڑے ہو کر نعمائے جنت کا ذکر فرماتے ہیں۔ اور اس ذکر میں خدا تعالیٰ جو آپ پر فضل نازل کرنے والا تھا، ان کو بھی بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جنت میں انبیاء پر کیا کیا احسان کرے گا۔ وہ شخص بے تاب ہو کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس کے کوئی خاص اعمال نہیں ، کوئی نمایاں قربانیاں نہیں ، مگر وہ کہتا ہے کہ یا رسول اللہ ! دعا کیجئے میں بھی ان نعمتوں میں شریک ہو جاؤں ۔ کتنا چھوٹا سا یہ عمل ہے کہ ایک وقتی خواہش سے زیادہ ی ہے جونہ اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور یہ ایسی خواہش ہے جو نعمائے جنت کا ذکر سن کر ہر شخص کے دل میں پیدا ہو سکتی ہے اور ہر شخص کو لالچ آجاتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ کو اس کا یہ بے ساختہ پن پسند آجاتا ہے اور جب وہ کھڑا ہو کر کہتا ہے یا رسول اللہ ! دعا کیجئے میں بھی ان نعمتوں میں شریک ہو جاؤں تو رسول کریم صلی ستم فرماتے ہیں ہاں تم بھی ان میں شریک ہو گے۔ تب اور لوگ کھڑے ہوتے ہیں اور کہنا شروع کرتے ہیں یا رسول اللہ ! دعا کیجئے ہم بھی شریک ہو جائیں۔ مگر آپ فرماتے ہیں پہلے کہنے والے کو یہ حق مل چکا نقل کرنے والوں کیلئے اب موقع نہیں ۔ ان بعد میں بولنے والوں میں سے کئی وہ لوگ ہوں گے، جنہوں نے بڑی بڑی قربانیاں کی ہوں گی اور پہلے شخص سے زیادہ کی ہوں گی مگر اس شخص کی بے ساختگی خدا تعالیٰ کو پسند آ گئی ۔ وہ عمل جس میں اسے کوئی قربانی کرنی نہیں پڑی جس میں اسے کوئی تکلیف اٹھانی نہیں پڑی ، جس میں اسے کسی جہاد 159