خطبات محمود (جلد 14) — Page 151
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء دیتے ہیں کہ ہمیں پتہ نہیں تھا کہ اس طرح نکاح نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اگر تین دفعہ کہنے کے باوجود بھی ایک بات کسی شخص کی سمجھ میں نہیں آسکتی تو میں نہیں سمجھ سکتا اسے کتنی دفعہ بات سمجھانی چاہئے۔ اس گناہ اور منافقت کی وجہ اصل میں یہ ہے کہ لوگ سمجھتے ہیں جو ناظر ہے وہ بیوقوف ہے۔ میں نے دیکھا ہے قادیان کی لوکل جماعت کے پریذیڈنٹ چونکہ بدلتے رہتے ہیں اس لئے ان کے متعلق یہ بات خوب نظر آتی ہے۔ ایک وقت جب ایک شخص پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو دوسرا آ کر کہتا ہے دیکھئے کیا اندھیر نگری ہے، کوئی سننے والا ہی نہیں ، ہر کوئی اپنی حکومت جتاتا ہے لیکن جب دوسرے وقت وہی شخص خود پریذیڈنٹ ہو جاتا ہے تو شکایت کرتا ہے پبلک بالکل جاہل اور احمق ہے، وہ تو کام کرنے ہی نہیں دیتی ۔ گویا جب خود پریذیڈنٹ ہوتا ہے تو پبلک کو احمق قرار دیتا ہے۔ اور جب پبلک میں شامل ہو جاتا ہے تو پریذیڈنٹ کو احمق کہنے لگ جاتا ہے۔ اسی طرح میں نے پبلک کے بعض افراد کو دیکھا ہے، کہہ دیں گے یہ پریزیڈنٹ نہایت ہی بیوقوف اور جاہل ہے۔ پھر جب ان میں سے کوئی پریذیڈنٹ ہو جاتا ہے تو یکدم پبلک جاہل بن جاتی اور وہ عقلمند ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ جو اس وقت معترض ہیں اور کہتے ہیں کہ ناظر نے یوں کر دیا اگر میں انہیں ناظر بنادوں اور دوسرے ہی دن ان سے پوچھوں کہ پبلک کا کیا حال ہے تو وہ کہہ دیں گے جی کیا پوچھتے ہو، جاہل آدمی ہیں قرآن میں بھی لکھا ہے اکثر لوگ جاہل ہوتے ہیں، یونہی نکتہ چینی کرتے رہتے ہیں۔ گویا جب دوسرا شخص ناظر ہوتا ہے اُس وقت تو یہ کہا جاتا ہے کہ پبلک کی آواز ہی اصل چیز ہے اور جب اپنے سپر ہے جاہل بن ہے۔ یہ او پنے سپر دکام ہوتا ہے تو اُس وقت پبلک جاہل بن جاتی ہے۔ یہ دیانتداری اور تقویٰ کا طریق نہیں۔ تقویٰ وہ ہوتا ہے جو ایک اصل کے ماتحت ہو۔ چاہے تم حاکم ہو یا محکوم تمہارا اصل ایک رہے۔ لیکن جب تمہارا قانون بدلتا رہتا ہے تم خود حاکم بنوتو اور قانون ہو جاتا ہے محکوم بنوتو اور تو پھر تم مومن نہیں بلکہ منافق ہو خواہ تم جانتے ہو یا نہ۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ اصول مقرر فرمائے ہیں اور وہی ہر جگہ کام آیا کرتے ہیں چاہے کوئی حاکم ہو یا محکوم ۔ پس اگر اپنی اصلاح چاہتے ہو تو ان جاہل لوگوں کی طرح مت بنو جن کا آج کل یہ کام ہے کہ گورنمنٹ انگریزی جسے بھی افسر مقرر کرے، اس کے خلاف شورش برپا کر دیتے ہیں، جب تک یہ بات تمہارے اندر پیدا نہیں ہوگی اور تم اپنے افسروں کی اطاعت نہیں کرو گے، اُس وقت تک تمہارا ترقی کرنا بالکل محال ہے۔ تمہاری مثال اُس وقت اُس چیتے کی سی ہوگی جو اپنی زبان کا خون چوستا 149