خطبات محمود (جلد 14) — Page 146
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء نظارت امور عامہ کو سنا شروع کر دیا کہ وہ براہ راست خلیفہ وقت کو اس رنگ میں مخاطب نہیں کر سکتے تھے۔ پس انہوں نے امور عامہ کو برا کہہ کر خلیفہ وقت کو برا بھلا کہا لیکن بہر حال اگر وہ ایمان دار ہیں تو بیوقوفی سے اور اگر بے ایمان ہیں تو شرارت سے انہوں نے امور عامہ پر قسم قسم کے الزام لگائے اور لکھا کہ امور عامہ کے کارکن جلد بازی کرتے ہیں ظلم کرتے ہیں ، دباؤ ڈالتے ہیں، دھینگا مشتی کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ فیصلہ کلی طور پر میرا کیا ہوا اور میرا ہی لکھوایا ہوا تھا۔ ایسے آدمیوں کے متعلق یا تو میں یہ سمجھوں کہ وہ سلسلہ احمد یہ کی حقیقت سے قطعی طور پر نا واقف ہیں اور یا مجھے معاف کریں، وہ اول درجہ کے احمق ہیں۔ یا پھر یہ ہے کہ ان کے دلوں میں خلافت اور نظام سلسلہ کے متعلق کسی قسم کا ایمان باقی نہیں۔ جس امر کے متعلق وہ شور مچا اور کے رہے ہیں کہ دھینگا مشتی ہوئی ، زبردستی کی گئی ظلم کیا گیا اُس کی حقیقت یہ ہے کہ اس نکاح کے متعلق تین دفعہ مجھ سے اجازت مانگی گئی اور تینوں دفعہ میں نے کہا کہ یہ نکاح نہیں کرنا چاہئے ۔ مگر میری تین دفعہ کی ممانعت کے باوجو د سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں چند او باش اور آوارہ گرد لونڈوں کو اکٹھا کر کے نکاح پڑھ دیا گیا۔ خلیفہ وقت کے ایک حکم کا انکار بھی انسان کو جماعت سے خارج کر دیتا ہے مگر یہاں یہ حالت ہے کہ خلیفہ تین مرتبہ ایک بات کو دہراتا اور کہتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے ، میں اس کی اجازت نہیں دیتا مگر وہی بات کر لی جاتی ہے۔ پھر یہ بیوقوف کہتے ہیں ناظر امور عامہ ظالم ہے کہ اُس نے سزا دی ۔ حالانکہ اگر ان کے اندر غیرت ہوتی اور واقعہ میں ان کے دلوں میں ایمان ہوتا تو بجائے اس کے کہ امور عامہ یہ سزا دیتا ، انہیں خود ایسے لوگوں کو سزا دینی چاہئیے تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ ایک دفعہ کسی منافق کا ایک یہودی سے جھگڑا ہو گیا۔ وہ دونوں رسول کریم صلی السلام کے پاس گئے ۔ اور رسول کریم صلی الی تم نے جو فیصلہ فرمایا یا جو فرمانے لگے، اُس منافق نے سمجھا کہ یہ میرے خلاف ہوگا ۔ تب اُس نے یہودی سے کہا بہتر ہے کہ ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلیں اور وہاں سے فیصلہ کرائیں ۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازہ پر پہنچے اور کہا ہمارا فیصلہ کر دیجئے ۔ گفتگو کے دوران میں یہودی نے یہ بھی کہہ دیا کہ یہ رسول کریم صلی السلام کے فیصلہ کو ماننے کیلئے تیار نہیں ہوا۔ آپ نے کہا اچھا یہ بات ہے۔ میں ابھی آتا ہوں یہ کہہ کر گھر میں گئے تلوار لی اور باہر آکر اُس منافق کی گردن اڑا دی اور کہا جسے رسول کریم صلی السلام کا فیصلہ منظور نہیں اُس کا 144