خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 137

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء سے ناواقف ہے۔ ان ذرائع سے تہی دست ہے جو مذاہب کو بڑھانے والے ہوتے ہیں وہ سوز و گداز ، وہ گریہ وزاری ، وہ گرم گرم بہنے والے آنسو، وہ انکسار جو انسان کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے اُسے خدا تعالی کی رحمت ، اس کی رافت اور اس کے من واحسان کے سامنے لے جا کر پھینک دیا کرتا ہے، ابھی ہماری جماعت کے بہت سے افراد میں سے مفقود ہے۔ ہم میں سے ایک بڑے حصہ کے دن اور راتیں ایک سے ہیں۔ ان کے نہ دن بیداری میں کٹتے ہیں اور نہ راتیں بیداری میں گزرتی ہیں۔ اگر راتوں کو ان کے جسم بے جان مردے کی طرح چار پائی پر پڑے رہتے ہیں تو دن کو ان کی روح غفلت کے پردوں میں لپٹی ہوئی صبح سے شام تک کا وقت گزار دیتی ہے۔ ہم ان کے متعلق یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ ان کی راتیں بھی دن ہوگئی ہیں بلکہ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ان کے دن بھی راتیں بن گئے ہیں ۔ دعاؤں کی وہ رغبت جو انسان کے اندر ایک ایسا ولولہ پیدا کر دیتی ہے جو اسے نچلا بیٹھنے نہیں دیتا بلکہ حرکت پر مجبور کرتا ہے، وہ ابھی بہت سے افراد میں نہیں پایا جاتا۔ اپنے نفس کا وہ مطالعہ جو انسان کو تسبیح پر مجبور کر دیتا ہے، نعمائے الہی پر وہ گہرا غور جو تحمید اور تقدیس کے کلمات خود بخود جاری کر دیتا ہے ، محمد رسول اللہ صلی السلام کے احسانات کا وہ عظیم الشان احساس جو بے خبری میں بھی زبان پر درود جاری کر دیتا ہے، ابھی تک بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ غرض وہ حالت جس کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ مَا كَانَ اللهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ لے وہ کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ ہمیں یہ تعلیم دی دی گئی تھی کہ کرنا دنیا میں میں ہوتے ہوتے ہوئے ہوئے بھی خدا کے ہوکر رہو ہمیں یہ کہا گیا تھا کہ یہ روس دین نہیں ہے ہے کہ کہ دنیا دنیا کو کو لی کہ دنیا میں کے ہو یہکہا کہ یہ دین چھوڑ دو۔ کیونکہ جو شخص مواقع فتن سے بھاگ کر علیحدہ کھڑا ہو جاتا ہے، وہ بزدل ہوتا ہے جس کی آنکھیں نہ ہوں وہ اگر کہے کہ میں بد نظری سے بچنے والا ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔ بہرا اگر کہے کہ میں کسی کی غیبت نہیں سنتا تو اس کی کوئی خوبی نہیں ۔ جس کی زبان کاٹی گئی ہو وہ اگر کہے کہ میں کسی کو گالیاں نہیں دیتا تو کوئی اس کی تعریف نہیں کرے گا۔ ہمیں کہا گیا تھا کہ دنیا میں رہتے اور لوگوں سے ملتے ہوئے اگر دلوں کو صاف رکھو گے اور کسی وقت اور کسی حالت میں خدا سے غافل نہ رہو گے، تب متقی کہلاؤ گے۔ ہمارے بہت سے دوستوں نے اس کے ایک حصہ پر عمل کیا مگر دوسرے پر نہیں ۔ انہوں نے کہا ہمیں حکم ہے کہ دنیا سے انقطاع نہ کرو، اِس لئے ہم اس کی طرف جاتے ہیں ۔ مگر وہ دوسرے حصہ کو بھول 135