خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 132 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 132

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء معالج ہو وہ حالت خراب ہونے کی صورت میں فورا کہہ دے کہ دوسرے ڈاکٹر کو بلاؤ۔ اور اگر میری رائے پر چلنا ہو تو فلاں فلاں کو بلاؤ۔ اس کے یہ معنے نہیں کہ مریض ضرور بچ جائے گا۔ کیونکہ لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءُ إِلَّا الْمَوْتِ هم دس ہزار ڈا کٹر بھی اگر جمع ہو جائیں۔ تو جس نے مرنا ہے وہ مرے گا۔ مگر کہنے والوں کو تو یہ موقع نہیں ملے گا کہ ڈاکٹر کی غلطی سے وفات واقع ہوگئی۔ پس ڈاکٹر کی عزت کی حفاظت کیلئے بھی یہ ضروری ہے جب وہ یہ سمجھتا ہے کہ جو کچھ کرتا ہوں میں ہی کرتا ہوں تو خدا تعالیٰ کی مدد بھی اس کے شامل حال نہیں رہتی ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سلطان عبدالحمید عبد الحمید خان معزول کی کی بہت تعریف تعریف فرمایا فرمایا کرتے کرتے تھے۔ اور اور سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ جنگ کی تیاریاں کی گئیں۔ اور جب مکمل ہو گئیں تو کسی نے کہا کہ ایک چیز رہ گئی ۔ اس پر اس نے بہت ہی پیاری بات کہی کہ کوئی خانہ خدا کیلئے بھی چھوڑ دو۔ تو خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے ملک الموت کا رستہ تو ڈاکٹر نہیں روک سکتے لیکن دوسروں کا مشورہ ضروری ہے، سوائے اس کے کہ مریض خود کسی اور کو بلانا پسند نہ یا غریب ہو لیکن ڈاکٹر کا فرض ہے کہ یہ بات پیش کر دے۔ اور حالات ایسے ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ مشورہ کی ضرورت تھی۔ زندہ بچہ ہاتھ کٹا ہوا ، آدھ گھنٹہ تک خون کے چوبچہ میں پڑا رہا۔ اگر ایک دو ڈاکٹر اور بھی وہاں ہوتے تو دو اگر ماں کی طرف متوجہ رہتے تو ایک بچہ کو بھی دیکھ سکتا۔ یوں تو کسی کو کیا پتہ ہے کہ کیا ہونے والا ہے لیکن اپنی کوشش ضروری تھی۔ میں خود باہر سے ڈاکٹر اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لوگوں کیلئے نہیں بلایا کرتا۔ میرے لئے صرف ایک دفعہ باہر سے ڈاکٹر آیا ہے۔ مگر مجھے آج تک معلوم نہیں کہ اُس کی فیس کس نے ادا کی۔ مجھ سے کہا گیا کہ کسی کو بلانا چاہئے تو میں نے جواب دیا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں ۔ کہا گیا کہ فیس انجمن ادا کر دے لیکن میں نے کہا میں اپنے لئے انجمن سے فیس نہیں دلوانا چاہتا۔ پھر مجھے پتہ نہیں کس نے بلایا اور فیس کس نے دی ۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں ہمارا اتنا ہی فرض ہے جتنی اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہے ۔ پھر میں دیکھتا ہوں کہ اس قسم کی کمزور حالت میں ایک ہی علاج ہوا کرتا ہے کہ تندرست آدمی کا خون مریض کو انجیکٹ کر دیا جائے ۔ اور میں نے آتے ہی دریافت کیا کہ کیا یہ بھی کیا گیا ، تو معلوم ہوا نہیں ۔ حالانکہ مریض کو بچانے کیلئے بالکل غیر متعلق لوگ اپنا خون پیش کر کے انہیں بچا لیتے ہیں ۔ میری ایک بیوی گزشتہ دنوں لا ہو ر ہسپتال میں 130