خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 8

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء میں بھاگ جاتا یا کہیں چھپ جاتا اور اس طرح مسلمانوں کے حملہ سے محفوظ رہتا۔ غرض انسانی تدابیر کے ساتھ اگر یہ بات ممکن بھی ہوتی ، تب بھی اس کیلئے سالوں چاہئیں تھے۔ مگر رسول کریم صلی الیکم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور جب تیسرے دن وہ لوگ جواب کیلئے حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا تم جاؤ۔ اُس زمانہ میں کسری کی رعایا اسے خداوند کہہ کر یاد کیا کرتی تھی۔ گویا وہ ان کا مجازی خدا تھا۔ اور ہمیشہ بات کرتے وقت وہ کسریٰ کو خداوند کہتے اور کہا کرتے تھے کہ ہمارا خداوند یوں کہتا ہے۔ آپ نے بھی اسی تلازمہ اے کو مد نظر رکھتے ہوئے فرمایا۔ جاؤ! میرے خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ آج کی رات اس نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے۔ وہ لوگ یہ الفاظ سن کر کانپ اُٹھے اور کہنے لگے شاید یہ دیوانہ ہو گیا ہے جو کسریٰ کی طاقت سے اس قدرنا واقف ہے۔ انہوں نے کہا۔ آپ اپنے پر اور اپنے ملک پر رحم کریں کسری کی فوجیں عرب کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گی۔ آپ نے فرمایا۔ میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ میرا وہی جواب ہے، جا کر گورنر سے کہہ دو۔ وہ لوگ واپس چلے آئے۔ اور انہوں نے گورنر سے کہا کہ یا تو وہ شخص دیوانہ ہے اور یا خدا کا نبی ۔ گورنر کہنے لگا ہم انتظار کریں گے۔ اگر اس کی یہ بات سچی نکلی تو وہ واقعہ میں خدا کا نبی ہوگا اور ہم اُس کی اطاعت میں جلدی کریں گے۔ غرض اُس نے انتظار کیا، یہاں تک کہ ایران کے جہاز وہاں پہنچے اور ایران کے بادشاہ کا خط گورنر یمن کے نام آیا۔ اُس زمانہ میں جیسا کہ دستور تھا گورنر چند قدم بڑھ کر آگے آیا۔ اس نے ایلچی سے خط لیتے ہوئے اسے بوسہ دیا ، سینہ سے لگایا اور پھر اسے کھولا ۔ مگر جب اس نے خط اپنے ہاتھ میں لیا تو معا اُس کا رنگ متغیر ہو گیا۔ کیونکہ اس پر اس بادشاہ کی مہر نہیں تھی جو اُس وقت حکمران تھا جبکہ وہ گورنر بنایا گیا تھا بلکہ اس کے بیٹے کی مہر تھی۔ اس نے خط کھولا تو اس میں لکھا تھا ، ہم نے اپنے باپ کے ظلموں کو دیکھ کر اور یہ محسوس کر کے کہ رعا یا اس سے سخت تنگ ہے، اسے فلاں دن قتل کر دیا ہے اور اب ہم تخت حکومت کے وارث ہیں ۔ گورنر دن دیا ۔ یمن نے جب حساب لگایا تو اسے معلوم ہوا کہ جس رات کسری قتل ہوا ، وہ وہی رات تھی جب رسول کریم لا کہ سلیم نے بتلایا تھا کہ آج رات میرے خدا نے تمہارے خداوند کو مار ڈالا ہے۔ پھر آگے لکھا تھا۔ ہمارے باپ نے عرب کے ایک مدعی نبوت کے متعلق بھی ایک ظالمانہ حکم جاری کیا تھا۔ ہم اسے بھی منسوخ کرتے ہیں، اس بارے میں قطعا کوئی کارروائی نہ کی جائے ہے۔ 6