خطبات محمود (جلد 14) — Page 120
خطبات محمود ۱۴ حضرت سیدہ سارہ بیگم صاحبہ مرحومہ کی وفات کے متعلق بعض امور (فرموده ۱۹ مئی ۱۹۳۳ء) سال ۱۹۳۳ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ پیشتر اس کے کہ میرے خیالات مجتمع ہوں اور میں انہیں تحریر میں لانے کے قابل ہوں ۔ میں چاہتا ہوں کہ اس امر کے متعلق جو میرے دل میں ہے، بعض باتیں آج کے خطبہ میں بیان کر دوں لیکن پیشتر اس کے کہ میں اصل مضمون کو شروع کروں میں اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ ان تمام دوستوں کا جو قادیان کے رہنے والے ہیں یا باہر کے، اس ہمدردی کا شکریہ ادا کر دوں جو انہوں نے میری بیوی کی وفات پر ظاہر کی ہے۔ انسان دنیا اگر نہ تو انسان اس دنیا میں مرنے کیلئے ہی آیا ہے۔ اگر موت نہ ہوتی تو کوئی ترقی نہ ہوتی اور انسان کی پیدائش لغو ٹھہرتی ۔ ہم میں سے کون ہے جو دیانتداری کے ساتھ کہہ سکے کہ وہ اس دنیا میں ہزار، دو ہزار، چار ہزار سال کی زندگی کو پسند کرتا ہے بلکہ برداشت بھی کر سکتا ہے ۔ بہت سے لوگ اپنی زندگی بچانے کیلئے مختلف قسم کی تدابیر اختیار کرتے ہیں ۔ لیکن سمجھدار لوگ جن کے دل میں ذرا بھی خدا تعالیٰ کا خوف ہوتا ہے وہ کبھی بھی اس عام زندگی سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے مقدر کر رکھی ہے، زیادہ کی خواہش نہیں کرتے ۔ جاہل ، بے دین اور ایمان نہ رکھنے والوں کیلئے قرآن کریم نے کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہزار سال زندہ رہیں ، حالانکہ دنیا کی عمر کے لحاظ سے ہزار سال بہت تھوڑے ہیں لیکن اس سے یہ معلوم ہو سکتا 118