خطبات محمود (جلد 14) — Page 117
خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء دور بیٹھنے سے غصہ کیوں آجاتا ہے۔ یہ دوطبیعتیں ہیں اور دونوں اپنی جگہ پر ایک نیکی کے مقام پر ہیں۔ ایسی طبیعتوں والے دو آدمی اگر کفر میں چلے جاتے تو ایک کفر میں جوشیلا ہوتا اور دوسرا کفر میں ٹھنڈا لیکن جب دونوں ایمان کے دائرہ میں آگئے تو ایک ایمان میں جوشیلا نکلا اور دوسرا ایمان میں نرم طبیعت کا طبیعتیں وہی ہیں مگر اپنے اپنے دائرہ میں ترقی کر رہی ہیں ۔ میری غرض اس سے یہ ہے کہ بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنی نیکی کی جدو جہد میں دوسروں کی نقل اختیار کرنا ایک معیار قرار دے لیتے ہیں۔ یعنی اگر ان کے محلہ یا قرب وجوار میں کوئی ایسا شخص رہتا ہے جو بہت ہی نرم طبیعت کا ہے تو وہ نیکی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم بھی اس کی طرح نرم طبیعت بنالیں ۔ اور اس طرح ان کی تمام کوششیں جو وہ نیکی کے حصول کیلئے کرتے ہیں، رائیگاں چلی جاتی ہیں اور نیکی کے میدان میں ترقی کرنے سے محروم رہتے ہیں ۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے جذبات کا مطالعہ کر کے انہیں خدا تعالیٰ کی راہ میں لگانے کی کوشش کرے۔ اگر وہ نرم طبیعت رکھتا ہے تو غصے والے کی نقل کر کے کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اور اگر سخت طبیعت رکھتا ہے تو کبھی نرم طبیعت والے کی نقل کر کے نیکی میں ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ بلکہ اگر وہ نیکیوں میں ترقی کرنے کی کوشش کرے جو اس کی طبیعت کے لحاظ سے نرم یا سخت طبیعت والے کیلئے مخصوص ہیں تو وہ بہت جلد میدان روحانیت میں آگے نکل جائے ۔ اگر جوش رکھنے والا شخص یہ کہتا ہے کہ میں اپنی طبیعت کو نرم بناؤں تو وہ غلطی کرتا ہے۔ کیونکہ خدا نے اس کی طبیعت کو آگ والا بنایا ہے اور آگ کا جو کام ہے وہی آگ کرے گی ۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ آگ پانی کا کام کرے ۔ ہاں آگ کے آگے مختلف کام ہو سکتے ہیں ۔ آگ جلاتی بھی ہے اور روٹی بھی پکاتی ہے۔ اسی طرح اگر وہ چاہے تو اپنی آگ والی طبیعت کو اچھے رنگ میں بھی استعمال کر سکتا ہے اور برے رنگ میں بھی ۔ لیکن یہ نہیں ہو سکتا کہ آگ پانی بن جائے ۔ اگر خدا نے اسے آگ بنایا ہے تو وہ پانی والا کام نہیں کر سکتی۔ اور اگر پانی بنایا ہے تو وہ آگ کا کام نہیں دے سکتا۔ آگ اگر چاہے کہ وہ پانی بن کر آٹا گوندھے تو وہ نہیں کر سکتی ۔ اسی طرح پانی اگر چاہے کہ وہ آگ بن کر روٹی پکائے تو وہ بھی نہیں کر سکتا۔ پس ہر ایک شخص کو اپنی طبیعت دیکھ کر اس کے مطابق نیکی میں ترقی کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے ۔ اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ اعلیٰ سے اعلیٰ روحانی انعامات حاصل کرے گا۔ لیکن اگر وہ اپنی طبیعت کو بدل کر ایک اور رنگ میں نیکی کی جدو جہد کرے گا تو اس کی تمام کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔ 115