خطبات محمود (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 346

خطبات محمود (جلد 14) — Page 105

خطبات محمود سال ۱۹۳۳ء آگے بڑھ گیا تو کیا نقصان ہے۔ اور اس طرح ہر شخص کے ایک ایک انچ بڑھنے سے وہی مثال ہو جاتی ہے۔ جیسے کہتے ہیں کہ ایک شخص کو وہم کی بیماری تھی ۔ وہ جب با جماعت نماز میں کھڑا ہوتا تو کہتا چار رکعت نماز فرض پیچھے اس امام کے اور پھر خیال کرتا کہ امام اور میرے درمیان تو کئی صفیں ہیں ، نیت ٹھیک نہیں ہوئی۔ یہ خیال کر کے وہ بڑھتے بڑھتے پہلی صف میں آجاتا۔ اور امام کی طرف اشارہ کر کے کہتا پیچھے اس امام کے۔ آخر اس طرح بھی اس کی تسلی نہ ہوتی تو وہ امام کو ہاتھ لگا کر کہتا پیچھے اس امام کے۔ پھر بڑھتے بڑھتے اس کے وہم کی یہاں تک کیفیت ہو جاتی کہ وہ امام کو دھکے دینے لگ جاتا اور کہتا جاتا پیچھے اس امام کے۔ ہر شخص مجلس میں آگے آنا چاہتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ میرے ذرا سا آگے بڑھنے سے کیا نقصان ہو جائے گا۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حلقہ نہایت ہی تنگ ہو جاتا ہے اور صحت پر اس کا برا اثر پڑتا ہے مگر علاوہ اس کے کہ صحت کیلئے یہ مفید بات نہیں اس کا نتیجہ یہ بھی ہوتا ہے کہ زیادہ آدمی اس حلقہ سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتے ۔ مجھے ایسے حلقہ میں سخت تکلیف ہوتی ہے کیونکہ مجھے گلے اور آنکھوں کی ہمیشہ تکلیف رہتی ہے۔ پھر یہ حلقہ تو بڑی بات ہے میری تو یہ حالت ہے کہ اگر لیمپ کی بتی خفیف سی بھی اونچی رہے اور اس سے ایسا دھواں نکلے جو نظر بھی نہ آسکتا ہو، تو مجھے شدید کھانسی ، اور نزلہ ہو جاتا ہے۔ ناک کی حسن اللہ تعالیٰ نے میری ایسی تیز بنائی ہے کہ میں دوسرے لوگوں کی نسبت کئی گنے زیادہ بویا خوشبو محسوس کر لیتا ہوں۔ یہاں تک کہ جانوروں کے دودھ سے پہچان لیتا ہوں کہ انہوں نے کیا چارہ کھایا ہے۔ جس شخص کے ناک کی حسن اتنی شدید واقع ہو وہ اس قسم کی باتوں سے بہت زیادہ تکلیف محسوس کرتا ہے۔ ایک اور ادب مجلس کا یہ مد نظر رکھنا چاہئیے کہ جہاں تک ہو سکے مجلس کو مفید بنانا چاہئیے ۔ اور خصوصا جو باہر سے دوست آئیں اُنہیں چاہئے کہ اپنی مشکلات پیش کر کے میرے خیالات معلوم کرنے کی کوشش کیا کریں۔ بہت لوگ خیال کرتے ہیں کہ شاید یہ بے ادبی ہے مگر میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ یہ بے ادبی نہیں بلکہ مجلس کو مفید بنانا ہے۔ میں نے دیکھا ہے بسا اوقات مجلس میں دوست خاموش بیٹھے رہتے ہیں اور میں بھی خاموش بیٹھا رہتا ہوں۔ میری اپنی طبیعت ایسی ہے کہ میں گفتگو شروع نہیں کر سکتا۔ اس مقام کے لحاظ سے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا فرمایا ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ بولوں مگر طبیعت کی افتاد ایسی ہے کہ کوشش کے باجود میں کلام شروع نہیں کر سکتا۔ اور جب کوئی شخص سوال کرے تبھی میرے لئے گفتگو کا 103