خطبات محمود (جلد 13) — Page 82
خطبات محمود ۸۲ سال ۱۹۳۱ء تو کہا جائے سبحان اللہ ! رسول اللہ" کے بھتیجے نے کیسے اچھے معنے گئے ۔ آج اگر زید قرآن سے کوئی نئی بات نکالے تو وہ تو مجرم اور واجب القتل شمار کیا جائے لیکن اگر رازی اس قسم کے مطالب بیان کریں تو انہیں امام تسلیم کیا جائے ۔ اگر قرآن مجید سے نئے معارف نکل سکتے ہیں تو جیسے ان کا حق تھا کہ وہ نکالیں ویسے ہی ہمار ا بھی حق ہے کہ ہم نکالیں اور اگر نہیں نکل سکتے تو پھر پہلے اور پچھلے دونوں مجرم ہیں کسی کی بھی تعریف نہ کرو۔ غرض یہ بالکل متضاد باتیں ہیں کہ ایک ہی منہ سے تو وہ قرآن کے نئے معارف بیان کرنے والوں کی تعریفیں کرتے ہیں۔ حضرت عباس اور امام رازی کے مداح بنتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی اور قرآن سے اچھی باتیں نکالے تو اسی منہ سے اسے ملزم ٹھہراتے ہیں حالانکہ یہی حرکت پہلوں سے بھی ہوئی۔ پس یہ تضاد ہے اور محض اس وجہ سے ہے کہ بزرگوں کو جھٹلانا مشکل ہوتا ہے وگرنہ قرآن کے سیاق و سباق پر غور کر کے اگر مطالب بیان کرنے اور نئے نئے معارف نکالنے گناہ اور نقص ہے تو سب اس میں شریک ہیں۔ لیکن اس خیال نے مسلمانوں کے دماغوں کو معطل کر دیا اور ان کی ایسی حالت ہو گئی کہ اگر کوئی قرآن سے نئی بات نکالے تو کہتے ہیں کہ اس نے نَعُوذُ با اللہ قرآن کو خراب کر دیا۔ جب یہ بات مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہو گئی تو جس شخص کے دل میں یہ خیال پیدا ہو جائے کہ روحانی ترقیات کا سلسلہ اب بند ہے لازما جسمانی ترقیات کے بند ہو جانے کا خیال بھی اسے پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ دیکھ لو ساتو میں صدی تک مسلمانوں میں ایجاد کا سلسلہ جاری رہا۔ مسلمانوں میں طب کے بھی ماہر نظر آتے ہیں، علم کیمیا کے بھی ماہر نظر آتے ہیں ، ہیئت اور علم ہندسہ کے بھی ماہر نظر آتے ہیں مگر اسی صدی میں جب یہ خیال غالب آجاتا ہے کہ اب قرآن سے نئے معارف نکالنے گناہ ہیں جو کچھ ضروری تھا وہ سب بیان ہو چکا تو دنیاوی ایجادات کا سلسلہ بھی رک گیا۔ نہ طب میں ترقی ہوتی ہے نہ علم ہندسہ میں نہ الجبرا میں نہ انجنیئرنگ میں معا تمام علم اٹھ جاتا ہے اور ساری باتوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ساتویں صدی تک ہی تفسیروں کی کتابیں لکھی جاتی ہیں اور جب یہ خیال دلوں میں بیٹھ جاتا ہے کہ اب نئی باتیں قرآن سے نکالنی گناہ ہیں سب کچھ مٹنا شروع ہو جاتا ہے کیونکہ جب روحانی علوم کے متعلق یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اب ان میں ترقی نہیں ہو سکتی تو جسمانی علوم میں بھی تنزل شروع ہو جاتا ہے۔ پس یہ ایک بدی ہے اور قومی بدی ہے۔ مسلمانوں میں کبھی یہ احساس نہیں دیکھو گے کہ نئی ایجادات کی طرف توجہ کریں بلکہ وہ پرانی چیزوں کو لے کر یوں چھٹے رہیں گے کہ گویا ان چیزوں کی