خطبات محمود (جلد 13) — Page 70
خطبات محمود سال ۱۹۳۱ء کے اصلی باشندوں میں پائی جاتی ہے۔ ان میں سے اگر کوئی کا رہائے نمایاں کرے تو ان کا نشان اپنے جسم پر گرواتا ہے۔ حتی کہ بعض کے سارے جسم پر ایسے نشانات ہوتے ہیں۔ جب اس شخص کے ا دل میں یہ و ہم پیدا ہوا کہ میں بڑا بہادر ہوں تو اسے خیال آیا کہ اس کا نشان گروانا چاہئے۔ اور اس کے لئے اس نے شیر کی شکل تجویز کی۔ یہ فیصلہ کر کے وہ گودنے والے کے پاس گیا۔ اور اسے کہا میرے جسم پر شیر کی شکل گور دو کیونکہ سب سے بہادر جانور ہی ہوتا ہے اور میں بھی سب سے بڑا بہادر ہوں۔ گودنے والے کو اپنی اجرت سے غرض تھی اسے کیا کہ کوئی شیر کے مشابہ ہے یا گیدڑ کے۔ وہ شیر کی شکل گودنے کے لئے تیار ہو گیا۔ لیکن جب اس نے سوئی لے کر جسم میں سرمہ بھرنا شروع کیا تو اس شخص نے درد محسوس کر کے پوچھا یہ کیا کرتے ہو گودنے والے نے کہا شیر کاکان گودنے لگا ہوں۔ اس نے کہا یہ بتاؤ اگر شیر کا کان کٹ جائے تو وہ شیر رہتا ہے یا نہیں۔ گودنے والے نے کہا شیر ہی رہتا ہے۔ اس نے کہا اچھا کان چھوڑ دو آگے گورو ۔ اس نے جب دو سرا کان گودنا شروع کیا تو پھر اس نے پوچھا شیر کا دوسراکان بھی نہ ہو تو وہ شیر رہتا ہے یا نہیں۔ اس نے کہا رہتا ہے۔ کہنے لگا اسے بھی چھوڑ دو۔ اسی طرح کہتے کہتے اس نے ٹانگیں ، دم وغیرہ کے متعلق بھی کہہ دیا کہ اگر یہ عضو نہ ہوں تو شیر رہتا ہے یا نہیں ۔ گودنے والے نے کہا ایک آدھ عضو نہ ہو تب تو شیر رہتا ہے لیکن یہاں تو تم نے سارا شیر ہی غائب کر دیا ۔ یہی حال ان لوگوں کا تھا۔ انہوں نے اسلام کا ایک ایک حکم ترک کر کے سارا اسلام اڑا دیا ۔ جب انہیں نماز کے لئے کہا گیا تو کہہ دیا اگر ہم نماز نہ پڑھیں تو کیا ہم مسلمان نہیں رہتے ۔ روزہ کے لئے کہا گیا تو کہہ دیا کیا اگر روزہ نہ رکھیں تو مسلمان نہیں رہتے۔ اسی طرح حج اور زکوۃ کے لئے کہہ دیا۔ آخر ان کی حالت اس عورت کی لونڈی کی سی ہو گئی جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ ہر روز سحری کو اٹھ کر کھانا کھا لیتی مگر روزہ نہ رکھتی۔ ایک دن عورت نے اسے کہا جب تم روزہ نہیں رکھتی ہو تو سحری کیوں کھاتی ہو ۔ اس پر وہ کہنے لگی میں نماز نہیں پڑھتی ، روزہ نہیں رکھتی ۔ کیا سحری بھی نہ کھاؤں تو کافر ہی ہو جاؤں ۔ گویا سحری کھانا بھی اس کے نزدیک مسلمان ہونے کی علامت تھی اور نماز نہ پڑھنے ، روزہ نہ رکھنے کی صورت میں اس کا سحری کھا لینا ہی کافی تھا۔ پس سوائے اس کے کہ وہ مسلمان کہلاتے کونسی بات مسلمانوں والی ان میں رہ گئی تھی۔ ان میں سے جو لوگ تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں ان کو دیکھو تو نہ وہ نمازیں پڑھیں گے نہ روزے رکھیں گے نہ حج کریں گے نہ زکوۃ دیں گے نہ اخلاق فاضلہ ان میں پائے جائیں گے مگر سب سے زیادہ