خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 65

: خطبات محمود ۶۵ سال ۱۹۳۱ء 7777777 بڑھ کر ہو ۔ جب ہم خدا تعالیٰ کی باتوں کو سمجھ اور سیکھ سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ دنیوی علوم کو دوسروں سے بہتر طور پر نہ سیکھ سکیں۔ اور یہ اپنی سستی ہو گی اگر کوئی کوشش نہ کرے وگر نہ مومن کے معنی ہی یہ ہیں کہ اس کی نظر بہت باریک چیزوں تک پہنچتی ہے۔ حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام فرمایا کرتے تھے چودھویں رات کے چاند کی روشنی میں کیسے شبہ ہو سکتا ہے مگر پہلی رات کا چاند ہر ایک کو نظر نہیں آیا کرتا۔ جو لوگ انبیاء پر ابتداء میں ایمان لاتے ہیں وہ ایسے ہی ہوتے ہیں جو پہلی رات کے چاند کو دیکھتے ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ان کی نظر بہت تیز ہے ۔ پس جو شخص پہلی رات کا چاند دیکھ سکتا ہے وہ دوسری تیسری اور چوتھی کا کیوں نہ دیکھ سکے گا۔ روحانی علم اور معرفت پہلی رات کا چاند ہے اور دنیوی علوم بعد کی راتوں کے ۔ اگر ہم خدا کی باتیں سیکھ سکتے ہیں تو دنیوی علوم کیوں نہیں سیکھ سکتے ۔ ضرور سیکھ سکتے ہیں مگر مشکل یہی ہے کہ آنکھیں کھول کر دیکھتے نہیں ۔ ہمارے اندر یہ احساس ہونا چاہئے کہ ہر میدان میں دوسروں سے آگے نکل جائیں جس طرح ہم دینی علوم میں دوسروں سے آگے ہیں اسی طرح کوشش کرنی چاہئے کہ دنیوی کاموں ، دنیوی علموں اور صنعتوں میں بھی دوسروں سے آگے ہوں۔ اور جتنا وقت ان کاموں میں لگا ئیں اس کی نسبت سے دوسروں سے آگے بڑھ جائیں۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ ان میں ہی منہمک ہو جائیں بلکہ یہ ہے کہ جتنا وقت ان کے لئے دیں اس کی نسبت سے دنیا سے آگے نکل جائیں۔ اور یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ اللہ تعالٰی نے بندہ کے اندر بہترین قابلیتیں رکھی ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو خدا تعالیٰ نے ہر فن کے آدمی عطا کئے ہوئے تھے ۔ جو اس بات کا ثبوت تھا کہ ان کے ذہن ایسے تیز تھے کہ وہ جس فن میں کوشش کرتے رکھنے والے ترقی کر جاتے۔ آپ فخر سے اس کا ذکر بھی فرمایا کرتے تھے کہ ہمیں ہر فن میں کمال رکھنے و آدمی خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں۔ مثلاً حضرت خلیفہ اول کو طب میں بہت کمال حاصل تھا حتی کہ دہلی کے بڑے بڑے اطباء کے مایوس العلاج مریض آپ کے پاس آکر شفا پاتے تھے ۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ آپ شہرت پسند پسند نہ تھے وگر نہ حقیقت یہ ہے کہ ہندو یہ ہے کہ ہندوستان کا کوئی طبیب آپ کے پایہ کا نہ تھا اور آپ کو یہ ترقی احمدیت میں آکر ہی حاصل ہوئی۔ یہاں آنے سے پہلے آپ اگر چہ شاہی طبیب تھے مگر زیادہ سے زیادہ اس ں علاقہ کے لوگ آپ سے فائدہ حاصل کر سکتے تھے لیکن یہاں آنے کے بعد خدا تعالیٰ نے آپ کو ایسا ملکہ عطا کیا کہ ہندوستان کے ہر حصہ سے لو سے لوگ آپ کے پاس علاج کے لئے آنے لگے ۔ حالانکہ یہ جگہ بالکل علیحدہ پڑی تھی اور اس زمانہ میں سفر کی مشکلات بھی تھیں۔