خطبات محمود (جلد 13) — Page 662
خطبات محمود ۶۶۲ سال ۱۹۳۲ء بھی ہے۔ چاہے تو اگلے جہان میں بھی اسے معاف کر سکتا ہے مگر ایسے شخص کی حالت قابل افسوس ضرور ہے کیونکہ اسے ایک نور ملا اور وہ اسے دیکھنے سے محروم رہا۔ اللہ ہی ہے جو اس پر رحم فرمائے مگر وہ لوگ جنہوں نے اس نور کو دیکھا وہری رحمتوں کے مستحق ہیں کیونکہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی خلعت کو واپس نہیں کیا بلکہ اسے قبول کیا اور اس پر فخر کیا۔ پس مبارک ہیں وہ اس جہان میں بھی اور اگلے جہان میں بھی۔ اور مبارک ہو تم کو کہ تم میں سے ہر ایک جو یہاں آیا اس کے سامنے اللہ تعالی کی ایک خلعت پیش ہوئی اس نے اسے پہنے پر فخر کیا۔ پس اللہ تعالی تم پر اپنی رحمتوں کے دروازے کھولے اور اپنی عظیم الشان برکات کا نزول فرمائے اور ان پر بھی رحم کرے جن کے لئے یہ دروازے کھولے تو گئے مگر وہ اپنی غفلت سے ابھی تک اس میں داخل نہیں ہو سکے کیونکہ وہ کہ لے کیونکہ وہ رَبُّ الْعَلَمِينَ ہے۔ (الفضل ۲۷- دسمبر ۱۹۳۲ء) الفاتحة : ٢ الفاتحة : ٤٣ الفاتحة : ٥ سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحہ ۲۷۷ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء ه بخاری کتاب المغازی باب قول الله تعالى ان تستغيثون ۔۔۔۔ ل بخارى كتاب الجهاد والسير باب من علق سيفه با الشجر في السفر عند القائلة الاحزاب: ۱۴ الاعراف: ۱۷۳