خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 656 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 656

خطبات محمود ۶۵۷ سال ۱۹۳۲ء کہا درست ہے دنیا میں اسی طرح ہوتا چلا آیا ہے اور ہم تسلیم کر لیتے ہیں کہ خدا تعالی کی نسبت مختلف مذاہب نے مختلف خیالات اپنے اپنے حالات کے ماتحت بیان کئے تو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ محمد سلیم کا خدا سب سے اعلیٰ و برتر خدا ہے اس لئے کہ اگر اسلام نے خدا تعالٰی کے متعلق جو خیالات پیش کئے ہیں، وہ محمد صلی علیم کی ذہنیت کا ہی عکس ہیں تو بھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ محمد کا کیریکٹر سب سے اعلی تھا۔ کیونکہ آپ کا کیریکٹ کیا تھایہ کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ہندوؤں نے اپنے کیریکٹر کے مطابق اللہ تعالیٰ کا جو نقشہ کھینچا، عیسائیوں نے اپنے کیریکٹر کے مطابق اللہ تعالی کی جو تصویر کھینچی، یہودیوں نے اپنے خیالات کے ماتحت اللہ تعالی کے متعلق جو کچھ بیان کیا میں کہتا ہوں کہتا ہوں ان تمام باتوں کو لے آؤ اور پھر محمد میں اسلام نے اللہ تعالی کے متعلق جو کچھ بیان فرمایا اس سے مقابلہ کر کے دیکھو ، تمہیں معلوم ہو گا کہ اگر ہم فرض محال کے طور پر یہ امر تسلیم بھی کر لیں کہ محمد سلیم نے اپنے خیالات کے ماتحت اللہ تعالیٰ کا نقشہ کھینچا تب بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ باقی تمام مذاہب نے اللہ تعالی کو ایک قومی خدا کی صورت میں پیش کیا مگر محمد سلم نے فرمایا کہ میں تو اسی ہستی کو اپنا خد ا بناؤں گا جو ساری دنیا کا خدا ہو اور جو کسی خاص قوم سے تعلق نہ رکھتا ہو ، یعنی رَبُّ الْعَلَمِينَ ہو۔ غرض اس راہ سے اگر فلسفہ بھی حملہ کرے تو باقی تمام مذاہب اس کا مقابلہ نہ کر سکیں گے ۔ صرف اسلام ہی ہے جو قائم رہے گا اور جسے کوئی اعتراض جنبش میں نہیں لا سکے گا اس لئے کہ دنیا اگر ترقی کر سکتی ہے تو صرف اس خدا پر ایمان لا کر جسے محمد میر نے پیش کیا ہے۔ پس خواہ مخالف ان خیالات کو محمد ملی تعلیم کے ذاتی خیالات ہی قرار دیں تب بھی اس امر سے انکار نہیں ہو سکے گا کہ محمد میر باقی تمام ہادیوں سے افضل ہیں کیونکہ آپ نے خدا تعالٰی کے متعلق نی : جو خیال پیش کیا وہ باقی تمام خیالات پر فوقیت رکھتا اہے ہے مگر مگر یہ یہ ؟ بحث ہی لغو اور بے ہودہ ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اختلافات پیدا ہی اس لئے ہوئے ہیں کہ لوگوں نے رَبُّ الْعَلَمِينَ خدا کو نہیں سمجھا۔ خدا تعالٰی نے بے شک اپنے آپ کو رَبُّ الْعَلَمِینَ کی صورت میں پیش کیا مگر جب لوگ خدا تعالیٰ سے دور ہوتے گئے اور اللہ تعالی کی بتلائی ہوئی راستی کو نظر انداز کر گئے تب انہوں نے اپنے دماغ سے کام لینا شروع کر دیا اور دماغی تخیلات کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی نئی صورت قائم کرلی۔ اور چونکہ یہ مصنوعی خدا تھا اس لئے اس میں زندگی کی علامات بھی نظر نہ آسکیں ۔ کیونکہ یہ لازمی بات ہے کہ اصلی خدا اور انسانوں کے بنائے ہوئے خدا میں زمین و آسمان کا فرق ہو گا۔ پس ان کا مردہ خدا تھا مگر محمد ملی سلیم نے جو خدا پیش کیا وہ زندہ اور قادر خدا ہے ۔ اور یہ واضح بات :