خطبات محمود (جلد 13) — Page 646
خطبات محمود ۶۶ سال ۱۹۳۲ء طرح ان کے باغ میں قیامت تک نئے نئے درخت پیدا ہوتے رہیں گے۔ کیونکہ ان کی تربیت سے ان کی اولاد کی اصلاح ہوگی اور ان کے ذریعہ ان کی اولاد کی۔ اور اس طرح یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ بلکہ یہ تو ایسا کام ہے کہ جن کے ہاں اولاد نہ ہو انہیں چاہئے کہ یتامی کو پال کر یہ ثواب حاصل کریں لیکن جن کو اللہ تعالی نے اولاد دی ہے وہ اگر اس سے محروم رہتے ہیں تو ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کے گھر میں گنگا بہہ رہی ہو لیکن وہ گندے ہاتھ لے کر بیٹھا ر ہے۔ رسول کریم میم نے فرمایا ہے کہ جس کے ہاں دو لڑکیاں ہوں اور وہ ان کی صحیح تربیت کرے تو میں دوا اس کے ساتھ جنت کا وعدہ کرتا ہوں ۔ جس سے معلوم ہوا کہ اولاد کی صحیح تربیت انسان کو جنت کا وارث بنا دیتی ہے۔ پس اگر تبلیغ اور تعلیم کے کام مشکل ہیں تو کم از کم اپنی اولاد کی تربیت تو کسی کے لئے مشکل نہیں کہی جاسکتی۔ جو کچھ تمہیں آتا ہے وہ انہیں سکھاؤ۔ اور پھر بچے جو نیکی بجالائیں گے اس کے ثواب میں اسے ایک حصہ تمہیں بھی ملے گا۔ اور جو شخص اتنے آسان ذریعہ کو بھی اختیار نہیں کرتا کہنا پڑے گا کہ نہ اسے جنت کی قدر ہے اور نہ اللہ تعالی کی خوشنودی کی پرواہ۔ اس کے ایمان میں نقص ہے۔ لیکن جس کے دل میں کچھ بھی قدر ہے وہ اتنا آسان طریق سن کر خوشی سے اچھل پڑے گا۔ میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمیں نیک اعمال بجالانے کی توفیق دے اور پھر یہ بھی توفیق دے کہ نیکی کو اپنے تک ہی محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی اولادوں کے اندر بھی اسے پیدا کریں تا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے۔ اور یہ کام کچھ بھی مشکل نہیں ، صرف ارادہ اور نیت کی دیر ہے اور جب انسان کس کام کی نیت کرے تو خواہ وہ مشکل ہو پھر بھی آسان ہو جاتا ہے۔ (الفضل ۱۵- دسمبر ۱۹۳۲ء) ا بخاری کتاب الایمان باب احب الدين الى الله عز و جل ادومه الجمعة : ٣ التحريم: ابودا ودكتاب الصلوة باب في فضل صلوة الجماعة ترمذی ابواب البر والصلة باب ما جاء في النفقة على البنات