خطبات محمود (جلد 13) — Page 639
خطبات محمود ۶۳۹ سال ۱۹۳۲ء A میں دلیری اور بہادری دکھائیں لیکن جرأت کا مفہوم لٹھ باز بننا نہیں کیونکہ اگر جرأت کا یہی مفہوم لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ کے لاکھوں نیک بندے اس نیک صفت کے دکھانے سے محروم رہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کے بندے ان صفات سے محروم نہیں رہتے۔ پس جب بھی نیکی کا موقع ملے ، عواقب اور خطرات سے بے پرواہ ہو کر اسے اختیار کر لینا اور انجام سے نڈر ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں پر چلنا حقیقی جرات اور بہادری ہے۔ اس وجہ سے اللہ تعالی کے انبیاء کا نام انبیاء کا نام جدی ہوتا ہے کیونکہ وہ اس قسم کی نیکیوں میں سب سے بڑھ ک کر ہوتے ہیں۔ لا تذکرہ صفحہ ۷۹ - ایڈیشن چهارم بخارى كتاب القدر باب العمل بالخواتيم (الفضل ۸ - دسمبر ۱۹۳۲ء)