خطبات محمود (جلد 13) — Page 620
خطبات محمود ۶۴۰ سال ۱۹۳۲ء ہوا ہے۔ ہم نہیں تو اگلی نسلیں کوشش کر کے اس میں داخل ہو سکیں گی۔ ان اللہ تعالی نے اپنے فضلوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کے ذریعہ ہم پر مکمل کیا۔ اور نہ صرف ہمیں اس یقین اور امید پر قائم کر دیا کہ الہام ہو سکتے ہیں بلکہ اس نے ہماری جماعت میں سے سینکڑوں آدمیوں کے دلوں پر وحی اور الہام نازل کر کے مشاہدہ بھی کرا دیا کہ یہ دروازہ کھلا ہے جن لوگوں کو اس دروازہ سے گزرنے کا موقع ملا اور جنہوں نے اس شیرینی کو چکھا رہ جانتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی کیفیت اس قسم کی ہو جاتی ہے کہ لوگ انہیں وہی کہتے ہیں۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ایک طالب علم جو رات دن اپنے استاد کے پاس بیٹھا رہتا ہے اور وہ جو باہر پھر تا رہتا ہے ان دونوں میں فرق ہوتا ہے۔ پاس بیٹھنے والے طالب علم سے جب کوئی بات پوچھو تو وہ فورا کہے گا کہ میں اپنے استاد سے پہلے پوچھ لوں لیکن اگر دوسرے طالب علم سے سوال کرو تو وہ خود بخود اپنی عقل سے جواب دیتا چلا جائے گا۔ کیونکہ اس کے پاس منبع علم موجود نہیں یہی حال ان لوگوں کا ہوتا ہے یہ وہی اس لئے کہلاتے ہیں کہ ان کے پاس منبع علم موجود ہوتا ہے۔ اور جب ان سے کوئی بات پوچھی جائے تو کہیں گے اچھا ہم دعا کر لیں استخارہ کر لیں پھر کچھ تائیں گے۔ اس لئے انبیاء کو بھی لوگ ہمیشہ وہی اور پاگل کہتے آئے۔ اب بظاہر کتنا فرق نظر آتا ہے کہ ایک عام شخص سے جب کوئی بات پوچھی جائے تو وہ کہہ دے کہ یقینا یہ فائدہ مند بات ہے اور یقینا اس کے کرنے سے یہ نتیجہ نکلے گا اور وہ نہایت وثوق اور یقین کے ساتھ کہے کہ میری یہی رائے ہے۔ لیکن خدا تعالی سے تعلق رکھنے والے سے جب پوچھا جائے گا تو وہ کہے گا کہ میری رائے کیا ہو سکتی ہے میں دعا اور استخارہ کروں گا۔ پھر جو اللہ تعالی بتلائے گا کہہ دوں گا۔ بظاہر ان دونوں کے پاس جانے والا شخص کہے گا میں پہلے کے پاس گیا تو اس نے صاف صاف مجھے اپنی یقینی رائے جلا دی۔ لیکن جب میں دو سرے کے پاس گیا تو وہ کہنے لگا میں کسی اور سے پوچھ لوں پھر بتاؤں گا۔ وہ خیال کرے گا کہ شاید دوسرے کے پاس قوت فیصلہ کم ہے۔ حالانکہ وہ نہیں سمجھتا کہ حقیقی قوت فیصلہ کی کنجی اس کے پاس ہے۔ اور یہ جب چاہتا ہے اسے لگا کر علوم کے خزانے کھول لیتا ہے۔ لیکن پہلے کے پاس سوائے اٹکل پچو باتوں کے اور کچھ نہیں اس لئے وہ اپنی عقل سے کام لیتا ہے۔ پس جسے ایک دفعہ یہ لذت حاصل ہو جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی راہ نمائی کی جاتی ہے وہ ہر موقع پر اس خیال کے ماتحت کہ نہ معلوم اللہ تعالیٰ کی رضامندی کسی امر میں ہے دعا اور استخارہ سے کام لیتا ہے۔ اور ایسا آدمی دعاؤں کی طرف بہت راغب ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ جس نے ایک دفعہ دروازہ