خطبات محمود (جلد 13) — Page 576
خطبات محمود ۵۷۶ سال ۱۹۳۲ء مطلب ہو گا کہ وہ چاہتا ہے میں بیمار ہو جاؤں میرے جذبات پر مردہ ہو جائیں اور میرے دل میں کام کی خواہش نہ رہے کیونکہ کام سے جی چرانے کے معنی ہی طبیعت کی خرابی اور بیماری کے ہوتے ہیں اور کام نہ کرنے کا خیال ہی مرض کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ غرض کام سے بے دلی اور تنفر بیماری اور مرض کی علامت ہے۔ اس کے مقابلہ میں سچا اور اصل انعام بھی ہوا کہ انسان کے اندر کام کی خواہش باقی رہے اور جب تک کام کی خواہش رہتی ہے دل میں اُمنگیں ولولے اور جذبات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔ اور جب کام کی خواہش نہیں رہتی دل بھی پر مردہ ہو جاتا ہے۔ بعض لوگ مرنے کے بعد زندگی کے متعلق خیال کرتے ہیں کہ وہاں کوئی کام نہیں ہو گا لیکن اس زندگی کے متعلق یہ سمجھنا کہ اس میں کوئی کام نہیں کرنا پڑے گا انتہاء درجہ کی بے وقوفی اور سخت درجہ کی حماقت ہے۔ وہاں تو یہاں سے بھی زیادہ کام ہو گا لیکن نہ ایسا کام جو تکلیف کا موجب ہو اور مصیبت معلوم دے بلکہ اس کام کے کرنے سے بشاشت پیدا ہو گی اور بڑھتے ہوئے جذبات کے ساتھ وہاں کام ہو گا کیونکہ وہاں کوئی بیماری کوئی مرض کوئی پژمردگی نہیں ہوگی۔ غرض عدم استقلال بیماری کی علامت ہے۔ دنیا میں بھی اس کے بد نتائج نکلتے ہیں لیکن جیسا کہ میں نے بتلایا دین میں تو اس کی خرابی بہت ہی زیادہ ہے۔ پس میں اپنے دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ استقلال کی صفت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں کے کے ۔ ساتھ ہیں سلوک ہے کہ جتنا جتنا اس کا بندہ کتب العلمین کی صفت اختیار کرتا چلا جائے گا اتنا ہی خدا اس کے لئے ربا رَبُّ الْعَلَمِينَ بنے بنے گا۔ گا۔ جت جتنا کوئی رحیم بنے گا گا اتنا اتنا ہی ہی وہ وہ اس اس ۔ کے لئے رحیم بنے گا جتنا کوئی رحمن بنے گا اتنا ہی اس کے لئے اس کی صفت رحمانیت بڑھتی چلی جائے گی۔ اور بندہ جتنی مالکیت کی صفت اپنے اندر پیدا کرے گا اتنا ہی خدا تعالیٰ کی مالکیت کا سلوک ترقی کرتا چلا جائے گا۔ پس عبادات، معاملات اور سلسلہ کے لئے قربانیوں کے کرنے میں ترقی کرتے جاؤ ۔ لیکن اگر ترقی نہیں کر سکتے تو کم سے کم جو کام شروع کردیا شروع کر چکے ہو اس میں استقلال کے ساتھ قائم رہو۔ مؤمن کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ تنزل نہ کرے اور اگر بڑھ نہیں سکتا تو ایک جگہ ٹھرا تو ر ہے۔ اور اگر وہ ایسا کرے گا اور صبر سے کام لے گا تو یقینا وہ انعام بھی حاصل کرے گا اور جب انعام حاصل ہونے شروع ہو جائیں گے تو پھر اسے استقلال اور صبر کی تلقین کی بھی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ دوسروں کو نصیحت اور وعظ کرے گا کہ نیکی کے کام کرو ان پر مداومت اختیار کرو۔ اس طرح کرنے سے تمہیں بھی انعام ملیں گے جس طرح مجھے ملے۔