خطبات محمود (جلد 13) — Page 574
خطبات محمود ۵۷۴ سال ۱۹۳۲ء کچھ شک نہیں کہ اگر ذات الہی کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو پھر ایک پر بھی دنیا میں ایسی نہیں رہتی جس کے متعلق قطعیت کا دعوی کیا جا سکے اور کہا جاسکے کہ یقینی ہے۔ ہاں جب یہ یقین کر لیا جائے کہ کوئی علیم کل ہستی ہے جو صفات کاملہ رکھتی ہے، جو ازلی ابدی ہے تو پھر ہماری ہر چیز یقینی بن جاتی ہے۔ اور وہ اس طرح کہ جب حقیقت اشیاء کے تعلق میں اس ذات کامل کی طرف مرافعہ لے جائیں جو تمام اشیاء کی خالق ہے اور وہ ہمیں بتلائے کہ اس میں حقیقت ہے تو وہ چیز متحقق ہو جائے گی ۔ کیونکہ اس کی حقانیت کا علم ایک کامل علیم و خبیر ہستی نے ہمیں دیا ۔ الہام الہی کے بعد تحقیق اشیاء کا ایک ذریعہ عقل بھی ہے لیکن عقل ہمیشہ صحیح نتیجہ اخذ نہیں کر سکتی ۔ علماء اور محققین نے عقل کے نتائج کو غیر یقینی قرار دیا ہے۔ اس صورت میں جب اشیاء کی تحقیقاتوں کی تمام بنیاد عقل پر رکھی جائے اور عقل غلطی کر سکتی ہے تو اس طرح تمام علوم ظنی اور شکی ہو جائیں گے اور شک سے آگے ان کی حیثیت نہیں بڑھ سکے گی۔ لیکن اگر حقیقت اشیاء کے لئے صفات الہیہ کو اصل منبع بنایا جائے تو خدا تعالیٰ کی صفات ہمارے لئے یقینی طور پر دلیل راہ بن سکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت رَبُّ الْعَلَمِینَ کی بھی ہے۔ رَبُّ الْعَلَمِينَ کے یہ معنی ہیں کہ وہ ہستی جس کے کاموں میں وقفہ نہ پڑے کیونکہ ربوبیت کے کاموں میں اگر ایک منٹ کے لئے بھی وقفہ پڑ جائے یا ایک منٹ کے لاکھویں حصہ کا بھی التواء ہو جائے تو ربوبیت ربوبیت نہیں رہتی اور شدید نقص پیدا ہو جائے ۔ غرض صفات الہیہ میں سے ایک صفت استقلال کامل کی بھی ہے۔ میں نے استقلال کا لفظ بولا ہے جو اپنے عام مفہوم کے لحاظ سے اللہ تعالی کے لئے نہیں بولا جا سکتا۔ جب بھی ذات باری کے لئے اس کا استعمال ہو گا اضافت کے ساتھ ہی ہو گا۔ لیکن سمجھانے کے لئے اسے استعمال کرتا ہوں۔ غرض ایسا استقلال جس میں کوئی نقص نہ ہو جس میں سیکنڈ کے ان گنت حصہ کے لئے بھی التواء نہ ہو ۔ یہ اللہ تعالیٰ ہی کی صفت ہے۔ یہی صفت جب تک انسان اختیار نہ کرے، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ غیر مستقل آدمی کی مثال قرآن مجید میں ایسی عورت سے دی گئی ہے الَّتِي نَقَضَتْ غَزْ لَهَا ، جو اپنا سوت آپ ضائع کر دے۔ ایسے لوگ بے شک نیکی کے کام کریں گے لیکن بہت جلد ان سے کنارہ کش ہو جائیں گے ۔ نمازیں پڑھیں گے لیکن پھر سستی شروع کر دیں گے۔ اخلاق فاضلہ دکھائیں گے لیکن پھر تساہل کی طرف میلان شروع ہو جائے گا۔ قومی خدمت میں مصروف ہوں گے پھر غفلت ہو جائے گی۔ چندے دیں گے لیکن