خطبات محمود (جلد 13) — Page 566
خطبات محمود ۵۶۶ سال ۱۹۳۲ء ہو تو میں اسے کس طرح روک سکتا ہوں گے۔ ۱۵ پس جنت صرف غریبوں کے لئے ہی نہیں بلکہ امیروں کے لئے بھی ہے۔ جب قربانی اور اخلاص سے انسان جنت کا وارث ہو سکتا ہے تو یہ قربانی اور اخلاص جو بھی دکھائے گا جنت کا وارث ہو جائے گا خواہ امیر ہو یا غریب اور قرآن مجید میں تو یہ مسیح موعود کے زمانہ کی علامت بیان کی گئی ہے کہ وَإِذَ الْجَنَّةُ ازْ لِفت یعنی اس زمانہ میں جنت قریب کی جائے گی۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کا صحیح ترجمہ وصیت ہی ہے۔ یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں جنت اس طرح قریب کر دی جائے گی کہ لوگوں کو یقین ہو جائے گا کہ فلاں کو جنت مل گئی۔ پس دوستوں کو چاہئے کہ وہ قربانیوں سے اخلاص سے اور نیک نمونہ سے لوگوں پر اثر ڈالیں۔ اپنے ہاتھوں اور زبان کو قابو میں رکھیں۔ لڑائی بھڑائی چھوڑ دیں۔ نفس کو قابو میں رکھیں اور لوگوں کو یہ نمونہ دکھا ئیں کہ جب کوئی شخص احمدیت میں داخل ہوتا ہے تو وہ اپنے ہاتھ اور زبان کو اپنے قابو میں رکھ کر نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے ہمسائیوں کے لئے بھی جنت پیدا کر دیتا ہے۔ کیسا بد قسمت وہ انسان ہے جس کے پاس جنت ہو مگر وہ خود بھی جہنم میں پڑا ہوا ہو اور دوسروں کو بھی تکلیف میں مبتلاء رکھتا ہو ۔ پس اکر باز ہونا، لٹھ باز ہونا اور لوگوں پر اپنی حکومت جتانا یہ کوئی عزت کی بات نہیں ہوتی۔ ایسے لٹھ باز کے سامنے گو کمزور لوگ کچھ نہ کہہ سکیں اور جب ایسا شخص سامنے آئے تو السَّلَامُ علَيْكُمْ بھی کہہ دیں لیکن پیٹھ پیچھے کہیں گے اس پر خدا کی لعنت ہو یہ بہت ہی برا آدمی ہے۔ پس لٹھ باز ہونے میں بڑائی نہیں بلکہ خدا کے لئے قربانی کرنے اور لوگوں پر شفقت اور احسان کرنے میں بڑائی ہے۔ ملنے والوں سے بد کلامی نہ کرو۔ میٹھی گفتگو کرو کیونکہ یہ ایسی چیزیں ہیں کہ ان سے اپنا دل بھی صاف رہتا ہے اور دوسروں کا بھی۔ اور جوں جوں دلوں کی صفائی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی زیادہ نازل ہوتی ہیں۔ (الفضل یکم ستمبر ۱۹۳۲ء) ا مسنداحمد بن حنبل جلد ۵ صفحه ۱۶۲ المائدة : ۲۵ : بخاری کتاب المغازی باب غزوة بدر + سیرت ابن ہشام جلد ۲ صفحہ ۲۶۷٬۲۷۶ مطبوعہ بیروت ۱۹۳۶ء