خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 555 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 555

3 خطبات محمود ۵۵۵ سال ۱۹۳۲ و ८ قدر و قیمت نہ تھی۔ ان کے ظاہری اخلاص کا قرآن مجید نے بھی نقشہ کھینچا ہے۔ چنانچہ فرماتا ہے کہ ا جب منافق رسول کریم مسلم کے پاس آتے تو قسمیں کھا کھا کر کہتے کہ تو اللہ کا رسول ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے ہے تو یہ سچ مگر یہ جھوٹ بول رہے ہیں۔ ان کو تجھ پر کچھ ایمان نہیں ہے۔ پس ان کی تمام تعریفیں اور تمام تائید میں جن کا وہ زبانی طور پر اظہار کرتے تھے خدا کے حضور ایک ذرہ بھر بھی قیمت نہیں رکھتی تھیں۔ باوجود اظہار اخلاص کے ایسے لوگ منافق تھے اور منافقوں میں ہی خدا کے حضور شمار کئے جاتے تھے ۔ ایسے منافق لوگ در حقیقت ہر زمانے میں ہوتے ہیں خواہ وہ حضرت موسیٰ کا زمانہ ہو خواہ رسول کریم ملی ایم کا۔ اور خواہ موجودہ زمانہ ۔ پھر ہر زمانہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو حقیقی اخلاص رکھتے ہیں۔ پس ترقی حاصل کرنے والی قوموں کو ابھارنے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا انسان کو وارث بنا دینے والی وہی قربانی ہوتی ہے جو حقیقی ہو اور جس کا انسانی قلب کے ساتھ تعلق ہو۔ ورنہ مونہہ کے خالی الفاظ کچھ بھی حقیقت نہیں رکھتے۔ ہماری جماعت میں بھی اس وقت دونوں قسم کے لوگ موجود ہیں۔ وہ بھی جن کے متعلق اللہ تعالٰی نے رسول کریم مسلم کے زمانہ میں ہی فرمادیا تھا کہ مِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ ينتظر یعنی کچھ تو ۔ یعنی کچھ تو ایسے لوگ ہیں کہ جو کچھ انہوں نے کہا تھا اسے پورا کر دکھایا اور کچھ ایسے ہیں جو ابھی اس انتظار میں ہیں کہ انہیں کب قربانی کا موقع میسر آئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکیں۔ پھر وہ بھی ہیں جو اپنی زبان کی تائید اور نصرت سے ایسے نمایاں اور بڑھے ہوئے نظر آتے ہیں کہ گویا اگلے پچھلے تمام مومنوں کا اخلاص جمع کر کے انہیں دے دیا گیا ہے۔ لیکن جب قربانی کا وقت آتا ہے ، جب خدمت دین کا موقع آتا ہے تو وہ اس طرح پھیل جاتے ہیں جس طرح مچھلی ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔ وہ ہر مجلس میں آگے بڑھ کر باتیں بنائیں گے مونہہ پر ان کے قربانی ہوتی ہے ، لیکن دل میں نفاق ہوتا ہے۔ وہ ایک مانگے کی نورانی چادر اوڑھنا چاہتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ جب ان کے دل سیاہ ہیں تو یہ مانگی ہوئی چادر ا نہیں کیونکر سفید کر سکے گی۔ اور نہیں سمجھتے کہ دوسرے سے مانگی ہوئی سفیدی انسان کو روشن نہیں کیا کرتی بلکہ اندر کی سفیدی انسان کو روشن کیا کرتی ہے۔ جب ایک شخص کے دل میں نور نہ ہو تو اس کے چہرے پر بھی نور نہیں آتا۔ اس لئے منافقوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کی باتوں کی طرف نہ دیکھو بلکہ ان کے چہروں کی طرف دیکھو تمہیں نظر آجائے گا کہ ان پر نور نہیں۔ ان کے چہرے دلالت کرتے ہیں کہ