خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 550

خطبات محمود ۵۵۰ سال ۱۹۳۲ء مومن کو نہیں۔ قرآن مجید میں آتا ہے کہ کافر کہے گا ٹیلیتَنِي كُنتُ تُو ابا کاش میں مٹی ہو تا یعنی عذاب سے بچ جاتا۔ تو یہ نجات کافر کا مقصد ہوتی ہے۔ مؤمن کا مقصد ہمیشہ قرب الہی ہوتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اجمالی ایمان بھی نجات کا باعث ہو جاتا ہے۔ اسی لئے ہم ان کا جو احمدی کہلاتے ہیں جنازہ پڑھتے اور ان کے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ لیکن تقرب کے لئے ضروری ہے کہ جو فیصلہ کرو قرآن مجید کے ماتحت کرو اور یقین رکھو کہ قرآن کا حکم ہی صحیح ہے۔ جو تمہاری عقل کہتی ہے وہ اس کی کوتاہی اور نا تجربہ کاری ہے۔ ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک بات تمہاری سمجھ میں نہ آئے اس وقت تمہارا فرض ہے کہ تم اپنے میں سے زیادہ سمجھدار لوگوں سے دریافت کرو۔ وہ تمہیں بتا سکتے ہیں کہ قرآن کا حکم کسی طرح صحیح اور درست ہے ۔ پس اپنے اعمال کو قرآن کے مطابق کرو اور یاد رکھو کہ قرآن کی بنیاد لا رَيْبَ فِیہ پر ہے ۔ اگر تمہارے دل میں قرآن مجید کی عظمت ہے اور محض لغوں کے طور پر تمہارے مونہوں سے یہ نہیں نکلتا کہ ہم قرآن پر ایمان لاتے ہیں اور محض لغو کے طور پر تم یہ نہیں کہتے کہ تم قرآن کے ماتحت فیصلہ کرنا چاہتے ہو تو پھر اگر تم بعض اوقات اپنی کو تا ہی عقل سے کسی حکم کو نظر انداز کر جاتے ہو تو قابل معافی ہو سکتے ہو لیکن اگر تم نے اس ایمان کے صرف یہ معنی سمجھ رکھے ہیں کہ صرف زبان سے کہہ دیا کہ ہم ایمان لے آئے اور عمل نہ کیا۔ اور جس شخص کے دل میں یہ خواہش نہیں کہ وہ قرآن مجید کے ماتحت مجید کے ماتحت فیصلہ کرے چاہے وہ اپنے مونہہ پر بلکہ اپنے سارے جسم اور عضو عضو پر گودلے کہ میں احمدی ہوں میں احمدی ہوں تب بھی وہ خدا کے حضور اسی لسٹ میں درج ہو گا جو غیر مومنوں اور غیر احمدیوں کی ہے۔ پس یاد رکھو قرآن مجید کا ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جو ناقابل عمل ہو ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جو حکمت سے خالی ہو ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جو اعلیٰ سے اعلیٰ ترقیات روحانیہ کالوارث نہ بنا سکتا ہو اور ہر جو اس کے خلاف کہتی ہے۔ ہر وہ عقل جو اسے اسے غلط سمجھتی ہے ہر وہ عقل جو اپنے خود تراشیدہ فیصلوں کو صحیح سمجھتی ہے وہ بے بہرہ ہے اندھی ہے، دوزخی ہے ، جہنمی ہے۔ وہ نہ وه عقل اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ دوسرے سرے کے کو ۔ ایسی عقل پیش کی ڈلی سے مشابہت رکھے گی۔ جسے ناواقف آدمی نر بی خیال کر کے اٹھا لیتا اور کھا کر ہلاک ہو جاتا ہے۔ بسا اوقات نربسی کی بُری شکل دیکھ کر اور بیش کی خوشنمائی دیکھ کر انسان سمجھتا ہے کہ تریاق یہ ہے ۔ حالانکہ جسے وہ زہر سمجھ رہا ہوتا ہے وہ تریاق ہوتا ہے اور جسے تریاق خیال کرتا ہے زہر ہوتی ہے۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ کسی کی عقل کسی بات کو اچھا قرار دے اور کہے کہ موزوں فیصلہ وہی ہے لیکن وہ زہر کا پیالہ ہو گا۔