خطبات محمود (جلد 13) — Page 544
خطبات محمود ولديد سال ۱۹۳۲ء اس طرح مجھے گھاٹا رہا۔ کل جب میں نے تجھے سلائے رکھا تو اس نماز کے رہ جانے کی وجہ سے تجھے اس قدر صدمہ ہوا کہ تو سہار اون رو تا رہا۔ اس پر اللہ تعالٰی نے کہا کہ میرے بندے کو بہت ہی رکھ ہوا ہے اسے ایک کی بجائے سو با جماعت نمازوں کا ثواب دے دیا جائے۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں تو ایک کے ثواب سے بھی محروم رکھنا چاہتا تھا مگر اسے تو سو با جماعت نمازوں کا ثواب مل گیا۔ آج میں جگانے آیا ہوں کہ کہیں پھر تجھے سو نمازوں کا ثواب نہ مل جائے۔ پس اگر انسان سچا اور کامل مؤمن بنے تو اس کی غلطیاں بھی نیکی بن جاتی ہیں۔ اور اس کے قصور بھی ترقی کا موجب ہو جاتے ہیں اس کے گرانے کا موجب نہیں بنتے۔ مگر شرط یہی ہے کہ اس کے دل میں جو اللہ تعالیٰ کی محبت اور توکل ہو اسے صدمہ نہ پہنچے۔ گویا اس کی حالت اس گلی میں سے گزرنے والے انسان کی طرح ہو جس کے کپڑے مصفی ہوں اور جو خود بھی نظیف الطبع ہو۔ مگر باہر سے اس پر چند چھینٹے غلاظت کے آپڑیں اور وہ اپنے ماحول سے متأثر ہو جائے۔ اس لالہ کی طرح نہ ہو جو دکان سے اتر کر نالی میں پیشاب کرتا اور پھر پیشاب کے چھینٹوں کو دھوتی سے پونچھ لیتا اور انہی گندے ہاتھوں سے حلوا پوری بنانے لگ جاتا ہے۔ مگر یہ کامل ایمان کی حالت قرآن کریم سے نصیب ہوتی ہے جب انسان قرآن کریم کو سمجھتا اور اس پر عمل کرتا ہے تب اسے تفصیلی ایمان نصیب ہوتا ہے ۔ مگر بہت لوگ اجمالی ایمان کے حصول پر ہی یہ خیال کر لیتے ہیں کہ انہیں تفصیلی ایمان حاصل ہو گیا۔ ایسے لوگ حقیقی تو نہیں لیکن نجاتی مومن کہلا سکتے ۔ ہیں۔ جیسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرمایا کرتے تھے کہ ہماری جماعت کا ایک حصہ طاعونی احمد ی ہے ۔ یعنی ہزاروں ایسے لوگ ہماری جماعت میں شامل ہیں جو اگرچہ احمدیت قبول نہ کرنے کی حالت میں بھی احمدیت کو سچا سمجھتے تھے لیکن اگر طاعون نہ آتی تو وہ کہتے کہ میں ظاہر اجماعت میں شامل ہونے کی کیا ضرورت ہے انتقاہی کافی ہے کہ ہم نے دل میں احمدیت کو سچامان لیا۔ مگر جب طاعون آئی اور اس نے احمدی اور غیر احمدی میں ممتاز فرق پیدا کرنا شروع کیا اور انہوں نے دیکھا کہ طاعون غیر احمدیوں کو کھائے چلی جارہی ہے تو وہ کھلے طور پر احمدی کہلانے لگ گئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہنستے ہوئے اس حصہ جماعت کو طاعونی احمدی کہا کرتے تھے۔ اسی طرح وہ شخص جس کا مقصد صرف یہ ہو کہ وہ دوزخ سے بچ جائے اللہ تعالیٰ کے عذابوں سے محفوظ رہے وہ طاعونی احمدی کی طرح نجاتی مومن تو کہلا سکتا ہے مگر حقیقی نہیں۔ حقیقی وہی ہے جسے تقرب الہی کی خواہش ہو اور پھر وہ اس کے حصول کے لئے کوشش بھی کرے۔ مگر یہ چیز تفصیلی ایمان کے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔