خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 535

خطبات محمود ۵۳۵ سال ۱۹۳۲ء دیکھتے ہیں قوی سے قومی انسان مر جاتا ہے اور اس کے پاس رہنے والا بوڑھا زندہ رہتا ہے۔ ابھی گزشتہ ایام میں ایک واقعہ ہوا تھا کہ سر محمد شفیع جو مسلمانوں کے ایک لیڈر تھے وائسرائے کی کو نسل کے ممبر بنے ۔ مگر وائسرائے سے یہ کہہ کر کہ میری والدہ بیمار ہیں ، لاہور ان کو دیکھنے کے لئے آئے۔ لیکن وہاں کیا ہوتا ہے۔ آپ فوت ہو گئے اور ار رگئے اور ان کی ماں زندہ رہی۔ اور ان کی وفات کے کئی ماہ بعد فوت ہوئی۔ غرض عمر کا کوئی معیار اور اندازہ نہیں۔ اگر عمر مقرر ہوتی تو لوگ اپنے کاموں کے لئے عمر کے حصے مقرر کر لیتے اور اس جدوجہد سے محروم رہ جاتے جو انسانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ غرض حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ کا فقرہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ دنیا بے ثبات ہے۔ تم جوان ہو یا بوڑھے ہو یا بچے ہو کسی حالت میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم کسی وقت تک زندہ رہو گے ۔ اور جب موت کا پتہ نہیں کہ کسی وقت آجائے تو اللہ تعالیٰ کی رضاء حاصل کرنے کے لئے جلدی کرو۔ اس چیز کی طرف تیسری بات جو حَتی عَلَی الْفَلَاحِ میں ہے وہ اس طرف اشارہ ہے کہ انسان اس چیز جلدی رجوع کرتا ہے جو بہت اعلیٰ درجہ کی ہوتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سب سے بڑھ کر اعلیٰ ہستی ہے۔ اس لئے انسان کو یاد رکھنا چاہئے کہ وہی اس کا مقصود ہو ۔ بے شک انسان کھائے پئے نوکری کرے تجارت کرے اس سے خدا منع نہیں کرتا مگر مقصود اعلیٰ صرف خدا ہی ہونا چاہئے ۔ یہی فرق ہے اسلام اور دوسرے مذاہب میں کہ وہ کہتے ہیں دنیا کی تمام چیزیں نعمتیں ہیں۔ لیکن ساتھ یہ بھی سکتے ہیں کہ ان کو استعمال نہ کرو ۔ حالانکہ اگر وہ نعمتیں ہیں تو ان کا استعمال اچھا ہو گا نہ کہ بُرا۔ لیکن اسلام دنیا کی استعمال کی چیزوں سے نہیں روکتا۔ ہاں یہ ضرور کہتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے لئے بھی وقت دو ۔ کیونکہ یہ معاملہ سب سے اہم ہے۔ پس اس کی طرف متوجہ ہونے میں دیر نہیں لگانی چاہئے۔ پھر اسی فقرہ میں یہ بھی اشارہ ہے کہ نماز چٹی نہیں جیسا کہ عیسائیوں نے کہا ہے کہ شریعت ایک لعنت ہے اور سزا کے طور پر نازل ہوئی ہے۔ غرض نماز کوئی مصیبت نہیں کہ اس کے لئے صبح کو اٹھو ، ظہر کو اٹھو ، عصر کو اٹھو ، مغرب اور عشاء کو اٹھو - حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ بتلاتا ہے کہ نماز میں خدا تعالیٰ کا فائدہ نہیں بلکہ خود بندہ کا ہی فائدہ ہے۔ اگر اس میں خدا کا فائدہ ہو تو پھر خدا ہی کیا رہا وہ تو محتاج ہو گیا۔ پس نماز میں بندہ کا ہی فائدہ ہے۔ روزہ میں بھی بندہ کا فائدہ ہے اور اگر کوئی حج کرتا ہے تو اس میں بھی اسی کا فائدہ ہے۔ غرض تمام احکام شریعت میں بندہ کا ہی سرا سر فائدہ ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کا۔