خطبات محمود (جلد 13) — Page 521
خطبات محمود ۵۲۱ سال ۱۹۳۲ء یہی کہیں تو یہ ایک جھوٹ اور فریب ہو گا۔ اور خدا کے فضلوں سے انکار ۔ اور اگر ہم ڈر جائیں اور کچھ بھی نہ کہیں تو یہ بزدلی ہوگی۔ ابھی تھوڑے دنوں کا واقعہ ہے کہ احرار کے لیڈروں میں سے ایک لیڈر نے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے ایک مجلس میں جو صلح کے لئے منعقد ہوئی تھی کہہ دیا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم احمدیوں کو کچل ڈالیں گے ۔ اب انسانی لحاظ سے ہم ان سے کہہ سکتے تھے کہ ہم تم کو کچل ڈالیں گے اور اگر زیادہ نرمی اختیار کرتے تو کہہ دیتے کہ کچل کر تو دیکھو۔ تیسری حالت ڈر جانا تھی کہ نہ معلوم کیا ہو گا۔ خدا جانے وہ کیا کر دیں گے۔ وہ اتنی بڑی تعداد میں ہیں اور ہم قلیل ہیں۔ لیکن صحیح بات وہی ہے جو میں نے کہہ دی ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ اگر یہ بندوں کی تحریک ہے تو ضرور کچلی جائے گی۔ اور اگر خدا کی تحریک ہے تو ہم کو کیا ڈر ہے؟ وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔ آنحضرت مسیلم کے دادا عبد المطلب کا واقعہ بھی اسی قسم کا ہے۔ جب ابرہہ بادشاہ نے مکہ پر حملہ کیا اور چاہا کہ خانہ کعبہ کو مسمار کر دے تو اس نے ان پر احسان رکھنے کے لئے چاہا کہ پہلے ان کو گفتگو کرنے کا موقع دے ۔ اس پر اس نے مکہ والوں کو کہا کہ اپنا کوئی بڑا آدمی میرے پاس بھیجو۔ تب مکہ والوں نے آنحضرت مسلم کے دادا عبد المطلب کو اس کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اس سے گفتگو کی جس کا اس پر بہت اثر ہوا۔ اور اس نے اپنے دل میں خیال کیا کہ یہ بڑے سمجھدار معلوم ہوتے ہیں ان سے اچھا سلوک کرنا چاہئے۔ اس ارادہ سے اس نے ان سے پوچھا آپ کیا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا آپ کے آدمیوں نے میرے تو اونٹ پکڑ لئے ہیں، وہ واپس دلار بیجئے ۔ یہ سن کر اس کی طبیعت پر بہت برا اثر ہوا اور وہ تمام اچھا اثر جو پہلے گفتگو کرنے سے اس پر ہوا تھا زائل ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں آپ کو عظمند سمجھتا تھا اور امید کرتا تھا کہ آپ کوئی بڑی بڑی چیز طلب کریں گے۔ اور میں چاہتا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ میں آپ کو وہ دے بھی دوں ۔ لیکن آپ نے کیا مانگانہ انگانہ مکہ کی حفاظت نہ خانہ کعبہ کا بچاؤ - بلکہ صرف اپنے اونٹ مانگے ہیں۔ آنحضرت مسلم کے دادا نے کہا میں نے سوچ سمجھ کر جواب دیا ہے۔ یہ میرے اونٹ ہیں جن کی میرے نزدیک تو کیا قیمت ہو گی ایک معمولی حیثیت کا عرب بھی کتنے ہی اونٹ ایک موقع پر ذبح کر دیتا ہے ۔ جب مجھ کو اپنی ایسی معمولی چیز کی حفاظت کا خیال ہے تو کیا خدا تعالیٰ اپنے گھر کی جو اس کی بہت ہی پیاری چیز ہے خود حفاظت نہ کرے کا ہے تو اپنےگھر کی جواس ہی خود گا آج کل دنیا ایک دوسرے کو کچلنا چاہتی ہے لیکن ایسا کرتے وقت یا تو وہ تکبر کی حالت میں سے