خطبات محمود (جلد 13) — Page 490
- خطبات محمود ۲۹۰ سال ۱۹۳۲ء نے مٹادیا تو خواہ کتنا ہی پڑھاؤ وہ مفید نہیں ہو سکتا ان میں تیمور اور نپولین کا دماغ پیدا نہیں ہو گا اور ان کی زندگی سے بھی وہ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے بلکہ صرف ایک قصہ کی حیثیت سے دیکھنے والے ہونگے۔ نپولین کے متعلق لکھا ہے کہ وہ ہو مر اور ایلیٹ کی کتابیں سرہانے رکھا کرتا تھا اب عام لوگوں کے نزدیک وہ قصے ہیں لیکن وہ ان سے تاریخ کا کام لیتا تھا۔ مگر باقی لوگ کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔ الف لیلہ میں بھی ایک قصہ ہے کہ کوئی شخص ایک مدرس کا بہت گرویدہ تھا ان لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ پڑھتے زیادہ اور نتیجہ بہت کم نکالتے ہیں۔ ایک دن وہ اس سے ملنے گیا تو موجود نہ پایا۔ لڑکوں نے بتایا کہ ان کے گھر شاید کوئی وفات ہو گئی ہے اور وہ بہت بری حالت میں ہیں۔ یہ خبر لینے گیا اور پوچھا کیا ہوا کیا کوئی عزیز فوت ہو گیا اس نے کہا دنیا میں لوگوں کے عزیز مرتے ہی ہیں اگر میرا مر جاتا تو کیا تھا اس نے پوچھا پھر ہوا کیا اس نے کہا میری جان اور روح سے پیاری محبوبہ کا انتقال ہو گیا اس نے پوچھا کہ وہ کون تھی جس نے آپ جیسے عالم کی محبت کو کھینچ لیا اس نے کہا کہ افسوس ہے اس بات کا پتہ مجھے خود بھی نہیں میں مدرسہ میں پڑھایا کرتا تھا تو ایک شخص ادھر سے گزرا کرتا تھا اور کہا کرتا تھا کہ ام عمر بہت حسین ہے اور اس کے کہنے سے میں دیکھے بغیر ہی اس پر عاشق ہو گیا اور میرا عشق دن بدن ترقی کر نا گیا پر سوں میں بیٹھا تھا کہ ایک شخص نے شعر پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ نہ ام عمر لوئی اور نہ اس کا گدھا جس کے معنی سوائے اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں کہ وہ مر گئی ہو گی تو جو لوگ پڑھتے زیادہ اور نتیجہ کم نکالتے ہیں انکی حالت ایسی ہی ہوتی ہے خالی کتابوں سے کچھ نہیں بنتا بلکہ جو کچھ بنتا ہے وہ عزم اور ہمت سے بنتا ہے کیا وجہ ہے کہ عیسائی دوسرے مسلمانوں کے سامنے تو غراتے ہیں مگر ہم سے بھاگتے ہیں بات یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ہمارے اندر ایک عزم پیدا کر دیا ہے آپ نے بتایا ہے کہ خدا نے مجھے کہا دنیا میں ایک نذیر آیا دنیا نے ایسے انے ایسے قبول نہ کیا لیکن خدا خدا اسے قبول کریگا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی دنیا پر ظاہر کر دے گا آپ نے بتایا کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ تم جیت جاؤ گے اور دشمن ہار جائیں گے احمدیت دنیا میں پھیل جائے گی ہم اس پر ایمان لائے اور یہ خیال ہمارے دل میں جم گیا اور ہم نے سمجھ لیا کہ ہم ضرور جیت جائیں گے اور اس لئے جیتنے لگے حضرت مسیح موعود کا سب سے بڑا معجزہ ہی ہے کہ آپ نے اپنے ماننے والوں کے اندر عزم پیدا ر عزم پیدا کر دیا ایک طرف خدا تعالی کا فضل ہے اور دوسری طرف قیمتی چیز ہمارا عزم ہے جو کامیابی کا ضامن ہے لیکن جو شخص طالب علموں کے دل میں دو متضاد خیال پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے وہ ان کے عزم کو توڑتا ہے