خطبات محمود (جلد 13) — Page 480
خطبات محمود ۸۰ سال ۱۹۳۲ء اصل مفہوم نہیں بدلا اس لئے چنداں قابل اعتراض بات نہیں۔ مگر اس لئے کہ بعض لوگوں میں یہ احساس پیدا ہوا ہے۔ میں نے مناسب سمجھا کہ اس مضمون کے متعلق دوبارہ کچھ بیان کردوں کیونکہ وہ ایک نہایت اہم معاملہ ہے اور اس کے متعلق میں اپنے خیالات صفائی سے پیش کر دینا چاہتا ہوں تا اگر آج اصلاح نہ ہو سکے تو آئندہ نسلیں ہی شاید اصلاح کر سکیں۔ اور ان کے سامنے یہ خیالات موجود رہیں۔ اور جو نقص اس وقت ہیں آئیندہ نسلیں ہی انہیں دور کر سکیں۔ میں سمجھتا ہوں اور اپنی اس رائے پر پختگی سے قائم ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منشاء تعلیم الاسلام ہائی سکول کے قیام سے محض یونیورسٹی کے امتحان پاس کرانا نہیں بلکہ آپ کا منشاء یہ تھا کہ اس جگہ ایسے طالب علم پیدا کئے جائیں جو یورپ سے آنے والی وباؤں کا مقابلہ کر سکیں اور اسلام کا مقصد ایسے طریق پر سمجھیں کہ اس کے متعلق جو غلط فہمیاں پیدا کی جاتی ہیں انہیں دور کر کے اسلام کی محبت لوگوں کے دلوں میں قائم کر سکیں۔ دنیا میں اسلام کا عملی نمونہ پیش کریں اور دنیا پر ثابت کر دیں کہ اسلام سے ہی اعلیٰ روحانی مدارج حاصل ہو سکتے ہیں۔ یہ منشاء تھا اس سکول کے قیام کا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ سکول اس وقت اس منشاء کو پورا کر رہا ہے میں عام بات کہنے کا عادی نہیں ہوں۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی شخص کلی طور پر برا نہیں ہو تا خواہ وہ فرعون ہی ہو ۔ ممکن ہے بعض لوگ اسے میری بینائی کا نقص سمجھیں مگر میں کیا کروں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے ایسی ہی بینائی عطا کی ہے اور میری فطرت ہی ایسی ہے کہ مجھے شیطان میں بھی کئی خوبیاں نظر آتی ہیں اس لئے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا اور نہ ہی یہ سن سکتا ہوں کہ ہمارے اس سکول میں کوئی خوبی نہیں۔ لیکن یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ ان ایام میں یہ سکول اس مقصد کو پورا کر رہا ہے جس کے لئے اسے قائم کیا گیا تھا۔ اس سکول پر ایک زمانہ ایسا آیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زندگی کے ایام میں بعض لوگوں نے کوشش کی کہ اس سکول کو توڑ کر صرف عربی کا ایک مدرسہ قائم رکھا جائے کیونکہ جماعت دو سکولوں کے بوجھ برداشت نہیں کر سکتی اور اس پر اتفاق جماعت امتاز بردست تھا کہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں شاید ڈیڑھ آدمی سکول کی تائید میں رہ گیا تھا ایک تو حضرت خلیفہ المسیح الاول تھے اور آدھا میں اپنے آپ کو کہتا ہوں۔ کیونکہ اس وقت میں بچہ تھا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں جو اہوں جو جوش مجھے اس وقت سکول کے متعلق تھا وہ دیوانگی کی حد تک پہنچا ہوا تھا۔ اور حضرت خلیفہ المسیح الاول چونکہ اور الاول چونکہ ادب کیوجہ سے حضرت مسیح موعود الصلوة والسلام کے سامنے بات نہ کر سکتے تھے اس لئے آپ نے مجھے اپنا ذریعہ :