خطبات محمود (جلد 13) — Page 453
خطبات محمود ۴۵۳ سال ۱۹۳۲ء قرآن کام کا علم بہت وقت چاہتا ہے ۔ اب اگر انسان اپنے تمام اعمال کا پتہ لگانا چاہے تو ایک انسان کی پچاس سالہ زندگی کے تمام اعمال معلوم کرنے کے لئے بھی دس کروڑ یا دس میں ارب سال کی زندگی در کار ہو گی تب جا کر وہ کتاب مکمل ہو گی جسے پڑھ کر وہ پتہ لگا سکے گا کہ اس نے پچاس سالہ زندگی میں کیا کیا کام کئے۔ اور چونکہ کاموں کی وجہ سے ہی انسان پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ انسانی کمزوری دور کرنے کا ذریعہ مقرر کر دیا ۔ یعنی نہایت ہی پاکیزہ الفاظ میں اجمال کے ساتھ ایک ایسا قانون بنا دیا جسے اگر مد نظر رکھے تو اپنی زندگی کے لئے صحیح مقاصد مهیا کرنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ وہ قانون قرآن مجید ہے جو یوں تو محمل ہے مگر ایک حصہ اس اجمال کا بھی خلاصہ ہے۔ پھر ایک حصہ ایسا ہے جو اس خلاصے کا بھی خلاصہ ہے۔ مگر باوجود اس کے وہ مفصل ہے اور اس میں تفصیل کے ساتھ تمام باتوں کو بیان کر دیا گیا ہے۔ پس ایک طرف تو ہم ان مجید کا نام خلاصہ رہ کانا رکھتے ہیں اور دوسری طرف اسے مفصل کہتے ہیں۔ گویا قرآن مجید مفصل بھی ہے اور خلاصہ بھی۔ خلاصہ اس لحاظ سے کہ اس کی ایک ایک آیت میں سینکڑوں مطالب پنہاں ہیں اور ایسے مطالب جو ختم ہونے میں ہی نہ آئیں ایک آیت میں بیان کر دینا خلاصہ ہی کہلا سکتا ہے تفصیل نہیں کہلا سکتا۔ لیکن وہ تفصیل بھی ہے یعنی اس میں الفاظ ایسی ترتیب کے ساتھ رکھے گئے ہیں کہ وہ سوچنے والوں کو خود بخود تفصیل کی طرف لے جاتے ہیں بشرطیکہ ہم اپنی حالت کو قرآن مجید کے مطابق بنالیں تو چونکہ تفصیل بھی اس میں سے نکلتی ہے باہر سے نہیں آتی اس لئے وہ مفصل بھی ہے۔ پس خلاصہ ہے اور ایسا خلاصہ کہ اس جیسا کامل خلاصہ دنیا میں کبھی نہیں ہوا اور وہ تفصیل ہے اور ایسی تفصیل کہ اس جیسی کامل تفصیل بھی دنیا میں کبھی پیش نہیں کی گئی۔ وہ نہایت ہی مختصر الفاظ میں ہے اور اتنے مختصر الفاظ میں کہ اس سے کم الفاظ میں اتنے مضامین بیان کرنا نا ممکن ہے۔ اور اور گروہ اتنا واضح ہے کہ اس سے زیادہ کسی بات کو کھولا نہیں جاسکتا۔ مگر وہ خدا جس کی صنعتیں اور ظلمتیں عجیب و غریب ہیں ، اس نے صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس نے قرآن مجید کا بھی خلاصہ کیا جس کا نام سورۃ فاتحہ ہے۔ سورۃ فاتحہ خلاصہ ہے تمام قرآن مجید کا لیکن سورۃ فاتحہ قرآن مجید کی تفسیر بھی ہے۔ اس کی ہر آیت قرآن مجید کے لئے بمنزلہ کنجی ہے۔ اور اگر سورۃ فاتحہ کی آیات سے باقی قرآن مجید کی آیتوں کو کھولنا شروع کیا جائے تو وہ یوں کھلتی نظر آتی ہے جیسے بزاز کی دکان میں کپڑوں کے تھان کھولے جاتے ہیں۔ پس سورۃ فاتحہ خلاصہ ہے اور ایسا خلاصہ کہ اس جیسا کامل خلاصہ کبھی نہیں ہوا۔ مگر اس سورۃ کا بھی ایک خلاصہ ہے۔ جس کے دو حصے