خطبات محمود (جلد 13) — Page 448
خطبات محمود ۴۴۸ سال ۱۹۳۲ء بھی اسی میں تھا یہ اکہتر ہزار ہوا اور قریباً بہتر ہزار یا اس سے کچھ تھوڑا قرض تھا۔ گویا جماعت نے ۳ ماہ میں ایک لاکھ ۴۴- ۴۵ ہزار کی رقم بلوں وغیرہ کے لئے جمع کرنی تھی اور چونکہ بجٹ بھی گھاٹے میں چلا آتا ہے اور شروع میں ہی بہتر ہزار کے قریب قرض تھا اسی طرح امید کی جاتی تھی کہ باقی مہینوں میں بھی اخراجات کی زیادتی ہوگی اور اس کے لئے علیحدہ رقم پس انداز کرنی ہوگی نتیجہ یہ ہوا کہ شروع سال میں باوجود یکہ جماعت نے پوری رقم ادا کر دی پھر بھی قرض کی رقم ۱۵-۱۶ ہزار باقی تھی۔ لیکن امید تھی کہ سال کے آخری ایام میں جیسا کہ عام طور پر بجٹ کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہ قرض اتر جائے گا آج میں اللہ تعالی کے فضل کے اظہار اور تحدیث نعمت کے طور پر یہ اعلان کرنے کے قابل ہوا ہوں کہ جب کہ پچھلے مالی سال کے شروع میں ۴۸۰۰۰ ہزار کے بلوں کے علاوہ اور بھی قرض تھا یہ سال جب ختم ہوا تو بجائے قرضہ کے قریب ڈیڑھ ہزار روپیہ انجمن کے خزانہ میں جمع تھا گویا جماعت نے جو پونے دو لاکھ کی رقم جمع کرنی تھی اور ایسی حالت میں جمع کرنی تھی کہ بیشتر حصہ مالی لحاظ سے مفلوج ہو رہا تھا حتی کہ بڑی بڑی حکومتیں قرضے لینے پر مجبور ہو رہی تھیں اللہ تعالی نے ہماری جماعت کو توفیق دی کہ اس نے گزشتہ قرضوں کو ادا کر کے مالی سال کے شروع میں کو ایک قلیل رقم ہی سہی مگر کچھ نہ کچھ پس انداز ضرور کر لیا۔ انسانی کوششوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمارے جیسی جماعت کے لئے یہ امر مشکل تھا اور لوگ خیال کرتے تھے کہ یہ رقم جمع نہیں ہو سکتی اور بعض تو گھبرا کر بعض کام بند کر دینے کا مشورہ دے رہے تھے۔ لیکن جماعت کی عام رائے کا احترام کرتے ہوئے میں اسے پسند نہ کرتا تھا اور ہمیشہ سے میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ جب کوئی جماعت ایک بار پیچھے بہتی ہے تو پھر اس کا قدم پیچھے ہی بٹتا چلا جاتا ہے اور جو جماعتیں ترقی کرنا چاہتی اور تو کل پر کام کرتی ہیں ان کا فرض ہے کہ قدم آگے ہی بڑھا ئیں اور جب کبھی ایسی تخفیف کا سوال پیدا ہو کہ بعض کاموں کو بند کر دیا جائے میرے دل میں ہمیشہ دھڑکن پیدا ہوتی ہے کہ اس کا نتیجہ کہیں خطرناک نہ ہو غرضیکہ عام احساس تھا کہ یہ رقم پوری ہوئی مشکل ہے اور واقعی جب زمینداروں کی حالت اچھی تھی تو دو بار چندہ خاص کی تحریک کی گئی لیکن ایک لاکھ پندرہ ہزار سے زیادہ رقم جمع نہ ہو سکی مگر اس دفعہ جب پہلے کے مقابلہ میں ان کی حالت دسواں حصہ بھی نہ تھی اور ہماری جماعت میں اسی فیصدی زمیندار اور ۱۸-۲۰ فیصدی ملازمت یا تجارت پیشه یا دوسرے ذرائع آمدنی رکھنے والے ہیں اور گویا اسی ۱۷-۱۸ فیصدی سے