خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 433

خطبات محمود ٣٣ سال ۱۹۳۲ء وہ خالی بیٹھ ہی نہ سکتا اس کے علاوہ اسے اور کوئی جنون نہ تھا دنیا کی کوئی بات کرو شطرنج کھیلتے ہوئے اس کا معقولیت سے جواب دیتا تھا اور اگر کوئی اور کھیلنے والا نہ ملے تو خود ہی دو آدمی بن کر لگا رہتا جو نہی اس نے ہمیں دیکھا دو ڑ کر آیا اور ہاتھ جوڑ کر منتیں کرنے لگا کہ خدا کے لئے ایک بازی کھیلو۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے ہی جنون ہے یہی حالت اور اور بعینہ یہی کیفیت روحانیت میں پیدا ہو سکتی ہے ۔ ایک شخص روزے رکھنے لگتا ہے تو بس ہی نہیں کرتا یا ہر وقت نمازیں ہی پڑھتا رہتا ہے کبھی چندہ دینے پر آئے تو ساری عمر کا اکٹھا ہی دیدیتا ہے اور ایسا دیتا ہے کہ نسبت کا کوئی خیال ہی نہیں رہتا۔ بظاہر تو لوگ کہتے ہیں کہ یہ کتنا نیک ہے جو کچھ گھر میں تھالا کر چندہ میں دے دیا لیکن یہ نیکی نہیں یہ جنون یا خراب عادت کی علامت ہوتی ہے اصل نیکی وہ ہے جس کا انسان استقلال سے پابند ہو کیونکہ وہ خدا کے لئے ہوگی جس میں انسان سارے پہلو مد نظر رکھے یہ نہیں کہ اس پاگل کی طرح شطرنج ہی کھیلتا رہے اور سب کچھ فراموش کر دے۔ یوں تو شطرنج بادشاہ اور امراء بھی کھیلتے ہیں تاریخی حیثیت کا تو مجھے علم نہیں لیکن روایتا سنا ہے کہ سکندراعظم کو جن چیزوں سے انتہاء درجہ کی محبت تھی ان میں سے ایک شطرنج کی کھیل تھی اس سے عقل تیز ہوتی ہے اور بڑے بڑے سمجھدار اور بادشاہ بھی اسے کھیلتے ہیں لیکن انہیں کوئی پاگل نہیں کہتا کیونکہ وہ دنیا کے اور کام بھی کرتے ہیں پاگل خانہ میں محبوس شطرنج کے کھلاڑی کو اگر پاگل کہتے ہیں تو اس وجہ سے کہ وہ اور کوئی کام سوائے شطرنج کھیلنے کے نہ کرتا اسی طرح جو شخص روزے ہی رکھتا چلا جائے اور نماز ، حج زکوۃ سب کچھ چھوڑ دے یا نمازیں ہی پڑھتار ہے اور باقی تمام ارکان اسلام ترک کر دے تو وہ بھی پاگل سمجھا جائے گا۔ حضرت خلیفہ المسیح الاول منایا کرتے تھے کہ شاہ ولی اللہ صاحب کی ایک بیٹی تھی انہوں نے اپنے بھائی شاہ محمد اسحاق صاحب سے کہا کہ میں ذکر الہی میں اتنا مزا محسوس کرتی ہوں کہ سمجھتی ہوں نوافل سے ذکر زیادہ مفید ہو گا اس لئے اب میں نقل چھوڑ کر ذکر پر زیادہ زور دیتی ہوں اور صرف فرض اور سنتیں ہی پڑھتی ہوں انہوں نے جواب دیا کہ بہن آپ میں جنون کا مادہ بڑھ رہا ہے جو آپ سے پہلے سنتیں اور آخر کار فرض بھی چھڑا دیگا لیکن انہوں نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے سنتیں تو وہ طریق ہے جو رسول کریم میر نے خدا تعالیٰ تک پہنچنے کا بتایا ہے لیکن تھوڑے دنوں کے بعد انہیں سنتیں ترک کر کے ذکر ہی کرنے کا خیال پیدا ہونا شروع ہو الیکن ان کی طبیعت کے اندر چونکہ سعادت تھی اس لئے وہ سنبھل گئیں اور بھائی سے بیان کیا کہ اب تو وہی کیفیت