خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 427

سال ۱۹۳۲ء ۴۲۷ خطبات محمود اسی طرح سیاسی ترقیات بھی اس قومی یا مذہبی جذبہ کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں جو کسی قوم کے افراد میں جان قربان کر دینے کے متعلق پایا جاتا ہے۔ اگر لوگوں کے اندر جان قربان کر دینے کے متعلق جذبات نہ پائے جاتے تو دنیا کبھی ترقی نہ کر سکتی ۔ وہی قومیں دنیا میں بڑھتی ہیں اور وہی قومیں دنیا میں بڑھ سکتی ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرہ میں ڈالا اور اس امر کے لئے تیار ہیں کہ جس وقت بھی ضرورت پیش آئے گی ہر رنگ میں قربانی کرنے کے لئے تیار رہیں گی۔ لیکن یہ کون سی عقل کہتی ہے کہ جاؤ اور جا کر خود تو مر جاؤ اور پچھلوں کو فائدہ پہنچاؤ ۔ ایسے موقع پر عقل تو ہر شخص سے یہی کہے گی کہ اگر تو مر گیا تو تجھے اس سے کیا فائدہ کہ دوسروں کو فتح حاصل ہو گی ۔ پس عقل ا جنگ کے موقع پر بھی یہی کہے گی کہ مت لڑو ۔ لیکن اس وقت جذبات غالب آجا ئیں گے ۔ اور یہ جذبہ دل کو چین لینے نہیں دے گا کہ یہ میرا ملک ہے اور میری قوم کو فتح حاصل ہونی چاہئے اور یہ جذبہ کبھی اس امر پر غور کرنے نہیں دے گا کہ اگر میں مرگیا تو اس سے مجھے کیا فائدہ ہو گا۔ ایسے موقع پر جذبات کے مقابلہ میں عقلی دلائل بالکل بیچ نظر آئیں گے۔ پس یہ دعوی بھی جذبات کا صحیح ہے کہ بغیر جذبات کے کسی کام کو کر دیکھو اس میں کامیابی نہیں ہو گی۔ غرض ہم جب جذبات کے پہلو کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ان کی بات ماننی پڑتی ہے اور اگر ہم عقل کی بات سوچیں تو ہمیں اس کی بات کو درست تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس ورطۂ حیرت سے اللہ تعالیٰ کا الہام ہی ہے جو باہر نکالتا ہے۔ اور بتاتا ہے کہ یہ بھی صحیح کہتا ہے اور وہ بھی صحیح کہتا ہے ۔ مگر ان دونوں کی کچھ حدود ہیں۔ انہیں مد نظر رکھنا چاہئیے ۔ الہام کے بغیر جب ہم جذبات کو غالب کے و غالب کریں گے عقل رخصت ہو جائے گی۔ اور جب عقل کو غالب کریں گے تو جذبات کا پہلو بالکل دب جائے گا۔ لیکن الہام کے گا کہ یہ دونوں باتیں درست ہیں۔ عقل بھی ضروری ہے اور جذبات بھی مفید ہیں۔ لیکن ہر ایک کے لئے ایک موقع اور محل ہے۔ پس الهام الہی کے ماتحت یہ دونوں متضاد چیزیں یکجا ہو جائیں گی۔ اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے جرمن والے فرانس کے ملک میں نہ جاسکیں۔ اور فرانس والے جرمنی میں نہ آسکیں لیکن انگریزوں کے ملک میں یہ دونوں اکٹھے ہو جائیں۔ کیونکہ انگریز تیسری طاقت ہیں اس طرح الہام الہی بھی عقل اور جذبات سے بالکل علیحدہ ایک ثالث اور منصف کی حیثیت میں ہے۔ اور وہ عقل اور جذبات کو اپنی اپنی جگہ پر قائم کر دیتا ہے۔ جس طرح دنیا میں بھی ہر جھگڑے میں ایک ثالث کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح ان عقلی اور جذباتی لڑائیوں میں بھی ایک ثالث کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ الہام الہی ہے۔ عقل اور جذبات کی جنگ میں سے مثلاً مرد و عورت کا 2 -