خطبات محمود (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 424 of 686

خطبات محمود (جلد 13) — Page 424

خطبات محمود م سال ۱۹۳۲ء کلام کی وجہ سے پیدا نہیں ہو تا بلکہ نفوس کی گندگی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ اگر اس فتنہ و فساد کا موجب اللہ تعالیٰ کے انبیاء ہوتے تو کبھی اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو دنیا میں نہ بھیجتا کیونکہ وہ فتنہ و فساد پسند نہیں کرتا۔ در حقیقت لوگ خود گندے ہوتے ہیں نبی ان میں اور گند پیدا نہیں کرتے بلکہ ان کے اندر جو مخفی گند ہو اسے ظاہر کر دیتے ہیں۔ جس طرح طبیب ایک بیمار کو مسل دیتا ہے ۔ اور اس کے پیٹ سے گندے محمدے نکلتے ہیں تو کوئی نہیں کہتا کہ اس طبیب نے میرا پیٹ خراب کر دیا یا جلاب دے کر معدہ کو گندہ کر دیا ۔ بلکہ ہر شخص یہی کہتا ہے کہ پیٹ میں پہلے سے گند موجود تھا طبیب نے مسہل دے کر اسے باہر نکال دیا۔ اور اس کے مخفی عیب کو ظاہر کر دیا۔ یہی حال انبیاء کی تعلیم کا بھی ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو کر اس کی تعلیم پیش کرتے ہیں تو وہ تعلیم مسہل اور جلاب کی طرح لوگوں کے گند کو باہر نکال دیتی ہے۔ یہ نہیں کہ وہ گند ان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے بلکہ ان کی وجہ سے ان کا مخفی گند ظاہر ہو جاتا ہے۔ پس انبیاء علیہم السلام کی مثال اس طبیب کی سی ہوتی ہے جو جلاب کے ذریعہ مادہ فاسدہ کا اخراج کرتا ہے یا ان کی مثال اس جراح کی سی ہوتی ہے جو نشتر کے ذریعہ پھوڑے سے پیپ خارج کر دیتا ہے۔ بظاہر ایک بند پھوڑے میں کوئی پیپ دکھائی نہیں دیتی لیکن ڈاکٹر کا نشتر کئی کئی چھٹانک بلکہ بعض دفعہ سیروں پیپ اس میں سے نکال دیتا ہے۔ اور کوئی نہیں کہتا کہ ڈاکٹر نے پیپ پیدا پیدا کر دی بلکہ ہر شخص یہی کہے گا کہ پیپ پہلے سے موجود تھی ڈاکٹر نے صرف چیر کر اسے نکال دیا ۔ پس مریض احسان مند ہوتا ہے نه که معترض اسی طرح اگر انبیاء کی بعثت سے دنیا میں فتنہ و فساد بڑھ جاتا ہے۔ اگر انبیاء کی بعثت سے لڑائی اور جھگڑا رو نما ہو جاتا ہے اور اگر انبیاء کی بعثت سے لوگوں کے گند اور خرابی میں ترقی ہو جاتی ہے تو اس کی یہ وجہ نہیں کہ وہ خرابی یا فتنہ و فساد انبیاء پیدا کرتے ہیں بلکہ یہ ہے کہ گند پہلے سے موجود ہوتا ہے وہ اس گند کو ظاہر کر دیتے ہیں۔ پس انبیاء کی یا ء کی بعثت پر تو کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا لیکن اس سے اتنا ضرور تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ انبیاء کی بعثت نہایت ہی اہم مقاصد پر مشتمل ہوتی ہے کیونکہ اگر ان کی بعثت نہایت ہی عظیم اسے الشان امور کی سر انجام دہی کے لئے نہ ہو تو ان کے آنے پر جس قدر فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے دیکھتے ہوئے مصلحت وقت کا تقاضا یہی ہو تا کہ انہیں دنیا میں نہ بھیجا جائے۔ مگر باوجو د فتنہ و فساد پیدا ہونے کے اللہ تعالیٰ کا انبیاء کو مبعوث کرنا ظاہر کرتا ہے کہ جو بظاہر نقصان دکھائی دیتا ہے اس سے نفع بہت زیادہ ہے۔ پس باوجود اس کے کہ انبیاء کی بعثت سے ہر گھر میں فتنہ پیدا ہو جاتا ہے ہر گاؤں