خطبات محمود (جلد 13) — Page 420
خطبات محمود ۲۰ سال ۱۹۳۲ء چار سو سال کے بعد ہوئے۔ اس لئے بہت سے معارف حاصل کرنے میں ان سے کو تاہی ہوئی ۔ مگر ہمیں اللہ تعالی نے ان سے بہت زیادہ علوم عطا کئے ہیں۔ نادان ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ رازی نے جو : کچھ لکھ دیا وہی ہمارے لئے کافی ہے۔ امام رازی الہام کے سلسلہ سے پانچ چھ سو سال بعد ہوئے اور ہم سے اللہ تعالیٰ نے الہام کے سلسلہ کو یوں قریب کیا ہے جس طرح دو انگلیاں آپس میں پیوست ہو ہوتی ہیں۔ پس یاد رکھو تمام تمام کامیابیاں امید سے وابستہ ہیں۔ رسول کریم میں یہ حدیث قدسی میں فرماتے ہیں کہ اَنَا عِنْدَ ظَنِ عَبْدِی بی خدا بندے سے ویسا ہی معاملہ کرتا ہے جیسا بندہ اس پر گمان کرتا ہے۔ پس کبھی مت خیال کرو کہ اللہ تعالی کی رحمت اور اس کے فضلوں کے دروازے بند ہو چکے ہیں۔ اور کبھی مت خیال کرو کہ روحانیت کے مدارج پہلے لوگ حاصل کر چکے ہیں۔ اب حاصل نہیں ہو سکتے۔ یہ سب باطل خیالات ہیں وہم ہیں اور جنون فاسدہ سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔ جتنا جتنا یہ خیال راسخ ہوتا چلا جائے گا اتناہی کفر دلوں میں رائج ہونا شروع ہو جائے گا۔ پس خوب سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہر چیز پر وسیع ہے۔ اور ہر شخص جو اللہ تعالی کی خواہش کرتا ہے وہ اسے پالیتا ہے۔ بقول مسیح ناصری " جو کوئی مانگتا ہے اسے دیا جاتا ہے اور جو ڈھونڈتا ہے وہ پاتا ہے۔ اور جو کھٹکھٹاتا ہے اس کے واسطے کھولا جائے گا۔۔ پس اللہ تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹاؤ تا وہ تمہارے لئے کھولا جائے۔ قرآن مجید بھی فرماتا ہے محلا مد هؤُلاء وَهُؤُلَاءِ مِنْ عَطَاءِ رَبِّكَ جو شخص بھی کوشش کرتا ہے اور جس رنگ میں بھی ونه در نمد کوشش کرتا ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ ک پس ہماری جماعت کا فرض ہے کہ وہ کبھی مایوس نہ ہو۔ اور نہ کبھی ہمت ہارے کیونکہ تمام قسم کی تاریکیاں ، تمام قسم کے گناہ اور تمام قسم کے عیوب اسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب انسان مایوس ہو جائے اور اپنے لئے چھوٹے درجہ پر قانع رہے۔ مگر وہ جو اللہ تعالٰی کے فضلوں پر امید رکھتا ہے وہ آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں اللہ تعالیٰ کے قرب کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ اور اگر وہ نہ بھی کرے اور اسی جدوجہد میں مر جائے تب بھی وہ اس سپاہی کی طرح ہو گا جو اپنے ملک کی خاطر لڑتا ہوا مارا گیا۔ کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ وہ سپاہی جس نے اپنے ملک کی خاطر جان دیدی گو اس نے فتح کا دن نہیں دیکھانا مراد رہا۔ ہرگز نہیں۔ معمولی سی عقل والی گورنمنٹ بھی اس کی قدر کرتی ہے۔ اور اگر وہ اسے انعام نہیں دے سکتی تو اس کے بیوی بچوں کو بدلہ دیتی ہے۔ لیکن اللہ تعالٰی کی