خطبات محمود (جلد 13) — Page 35
خطبات محمود 5 سال ۱۹۳۱ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک حوالہ کی تشریح اور تبلیغی اشتہارات کے متعلق اعلان (فرموده ۳۰- جنوری ۱۹۳۱ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :۔ میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں رمضان کے متعلق بعض باتیں بیان کی تھیں اسی سلسلہ میں آج بھی ایک حوالہ کے متعلق جو الفضل کے تازہ پرچہ (۳۰- جنوری ۱۹۳۱ء صفحہ اول) میں شائع ہوا ہے ابتداء ابتداء کچھ کہنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد ایک اور بعد ایک اور مضمون کی طرف توجہ دلاؤں گا۔ اسلامی مسائل کی بنیاد متفقہ پر ہے ان کے اندر بار یک عمتیں ہوتی ہیں اور جب تک ان کو نہ سمجھا جائے انسان دھوکا کھا کر بعض دفعہ گمراہی کی طرف نکل جاتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے ایک دفعہ کسی مجلس میں بیان فرمایا کہ انسان اگر تقوئی سے کام لے تو چاہے تو شادیاں کرلے۔ یہ بات سلسلہ کے اخباروں میں سے ایک میں شائع ہوئی جس پر یہ چرچا شروع ہو گیا کہ معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا مذہب یہی ہے کہ چار کی حد نہیں شادیاں کوئی جتنی چاہے کرلے۔ حضرت میر ناصر نواب صاحب مرحوم نے اس بحث اور جھگڑے کو جو باہر ہوتا تھا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پہنچایا اور پوچھا کہ اس سے آپ کا کیا مطلب تھا۔ آپ نے فرمایا میرا مطلب یہ تھا کہ اگر ایک بیوی مر جائے یا کسی وجہ سے طلاق دی جائے تو انسان اسکی بجائے اور شادی کر سکتا ہے اسی طرح خواہ تو شادیاں کرلے اس سے آپ نے اس خیال کی تردید فرمائی جو بعض مذاہب نے پیش کیا ہے کہ عمر بھر دوسری شادی نہ کرنی چاہئے۔ اب