خطبات محمود (جلد 13) — Page 392
خطبات محمود ۳۹۲ سال ۱۹۳۲ء سیاہی کا ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں آخر کار اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے غرض گناہ سے بریت اس طرح ہو سکتی ہے کہ اس کا ذرہ سا بھی اثر اس شخص کے اندر باقی نہ رہے ورنہ وہ کبھی اس کے سارے دل کو سیاہ کر دیگا پھر یہ بھی معلوم ہوا کہ نیک گمراہ ہو سکتا ہے اور گمراہ نیک ہو سکتا ہے اس ہوسکتا ہے اور ماہ ہو سکتا ہے۔ حالت میں ضروری ہے کہ ایک طرف تو خوف انتہائی درجہ کا ہو اور دوسری طرف امید بھی انتہاء تک ہو کہ اگر انسان گڑھے میں گرا پڑا ہو تو وہ سمجھے کہ بلندی کی آخری چوٹی تک پہنچ سکتا ہے یہ دونوں احساس ایک ہی وقت میں ہونے چاہئیں اور یہی دونوں ملکر انسان کو نیک بناتے اور نیکی پر قائم رکھتے ہیں یہی بات سورۃ فاتحہ میں بتائی گئی ہے۔ فرمایا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے یہ امید رکھو کہ تم وہ تمام مدارج ۔ امدارج روحانی حاصل کر حاصل کر سکتے ہو جو تم سے پہلوں نے حاصل کئے۔ مگر ساتھ ہی غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) بھی کہو۔ کیونکہ جس طرح یہ ممکن ہے کہ ادنی درجہ سے انتہائی مقام تک پہنچ جاؤ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ نیچے گر کر رستہ بھول جاؤ اور خدا کے غضب کے نیچے آجاؤ - پس نیکی کی حالت جاؤ۔ پس نیکی کی حالت میں مطمئن اور بدی کے وقت مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ یہ دونوں حالتیں انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔ یعنی یہ کہ انسان اپنے آپ کو محفوظ اور مامون قرار دے لے۔ جیسے جوانی میں کئی لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہم بیمار نہیں ہو سکتے اور کئی قسم کی بد پر ہیزیاں کر لیتے ہیں جو بڑھاپے میں ان کے لئے مصیبت کا باعث بن جاتی ہیں یا جوانی میں ہی ان کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ یہ حالت بھی خطرناک ہوتی ہے۔ اور یا پھر جب بیمار یہ سمجھے کہ میں صحت حاصل نہیں کر سکتا یہ بھی نقصان دہ اور انسان کو تباہ کر دینے کا موجب ہوتی ہے۔ صحیح طریق یہ ہے که اول تو انسان صحت کے ایام میں محتاط رہے۔ اور اس بات کی کوشش کرے کہ میں بیمار نہ ہو جاؤں یعنی حفظان صحت کے اصول کی پابندی کرے۔ اور دوسرے یہ کہ جب بیمار ہو تو یہ امید رکھے کہ صحت پاسکتا ہوں اور سرگرمی کے ساتھ علاج کرائے ۔ جب یہ دونوں باتیں ہوں تو صحت حاصل ہوگی۔ یہی طریق روحانی صحت کے متعلق اسلام بتاتا ہے اور یہی صحیح مقام ہے جو انسان کو صحیح رہتے پر قائم رکھتا ہے۔ انگلستان میں بیماروں کا علاج سرکاری ڈاکٹر نہیں کرتے بلکہ پرائیویٹ پریکٹس کرنے والے یا اپنی خدمات کو عوام عوام کی خدمت کے لئے وقف کرنے والے ڈاکٹر کرتے ہیں۔ سرکاری سرکاری ڈاکٹروں کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ حفظان صحت کے اصول کی تحقیقات کر کے اور لوگوں سے ان پر عمل کراتے ہیں تا بیماری پیدا ہی نہ ہو لیکن ہندوستان میں سرکاری ڈاکٹر بیماروں کا علاج کرتے ہیں مگر یہ دونوں