خطبات محمود (جلد 13) — Page 366
خطبات محمود سال ۱۹۳۲ء تو وہ اس جیسی صفات بھی عطا فرماتا ہے۔ دنیاوی گور نمٹیں جب کسی کو خان بہادر کا خطاب دیتی ہیں تو وہ اس کے دل کو بہادر نہیں بنا سکتیں ، صرف نام دے سکتی ہیں۔ مگر اس نام جیسی صفات دینے سے قاصر رہتی ہیں۔ مگر جب خدا تعالیٰ کسی کو بہادر کہتا ہے تو اس کو بہادر بنا بھی دیتا ہے کیونکہ اس کا کلام ہر قسم کے جھوٹ اور مبالغہ سے مبرا ہوتا ہے۔ اگر خدا تمہیں کہتا ہے کہ تم محمد ہو تو محمدی انوار اور صفات بھی تمہیں عطا کرتا ہے۔ اگر خدا تمہیں کہتا کہ تم موئی اور عیسی ہو تو وہ تمہیں موسیٰ والی برکات اور عیسی والے معجزات بھی عطا کرتا ہے لیکن جبکہ تمہیں کچھ ملتا نہیں تو صاف معلوم ہو رہا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام نہیں ، شیطان کا کلام ہے۔ پس حقیقت یہ ہے کہ خدا کی طرف سے جب کسی کا کوئی نام رکھا جاتا ہے تو اس نام کے ساتھ ویسی ہی قو تیں بھی اس میں رکھی جاتی ہیں جن سے پتہ لگتا ہے کہ وہ خدا کا کلام ہے شیطان کا نہیں۔ جس وقت اللہ تعالی کسی شخص کا نام مومن رکھتا ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کے اندر ایمان کے آثار بھی پیدا کر دیتا ہے۔ اور جب کوئی شخص مؤمن بن جاتا ہے تو اس کے اندر تمام ایمان کی صفات نظر آنے لگتی ہیں اور بچے ایمان کی علامت اللہ تعالی نے یہ مقرر کی ہے کہ اِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَئِكَةُ الَّا تَخَافُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُ وا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُونَ ، یعنی جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے وہی ہمارا محبوب ہے۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی ایمان پر استقامت بھی دکھاتے ہیں تو ملائکہ اس پیغام کے ساتھ ان پر نازل ہوتے ہیں کہ تم کسی قسم کا خوف اور حزن مت کرو بلکہ اللہ تعالیٰ کے انعامات پر خوش ہو جاؤ ۔ اس سے ظاہر ہے کہ ایمان کی علامت اللہ تعالیٰ نے یہ مقرر کی ہے کہ جب کوئی شخص مومن بن جاتا ہے تو خوف اور حزن اس کے دل سے مٹادیا جاتا ہے اور خوف اور حزن یہ دونوں بزدلی کی علامتیں ہیں۔ ہمیشہ وہی بزدلی دکھاتا ہے جو ڈرتا ہے کہ دشمن اسے ایذاء نہ پہنچادے یا وہ بزدل ہوتا ہے جو غمگین ہو ۔ غرض اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ ایمان لانے کے ساتھ ہی مؤمن پر ملائکہ کا نزول ہوتا ہے اور وہ اس سے کہتے ہیں کہ اب تمہارے دل سے بزدلی مٹادی گئی۔ اب تم دلیر اور بہادر ہو گئے اور دنیا کی کسی طاقت سے تم خوف نہیں کھا سکتے ۔ پس جب مؤمنوں کی یہ علامت ہے کہ وہ بہادر اور دلیر ہوتے ہیں تو ہماری جماعت کو بھی چاہئے کہ انکے تمام کام دو دوسروں سے ممتاز ہوں اور ان میں وہ جرات اور بہادری پائی جائے جس کی دوسروں میں نظیر نہ مل سکے ۔ میں نے ایک پچھلے جمعہ کے خطبہ میں افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کیا تھا کہ بعض جماعتوں