خطبات محمود (جلد 13) — Page 359
خطبات محمود ۳۵۹ سال ۱۹۳۲ء سے رو کریں جو اس وقت ذلیل ہو رہے ہیں۔ اور حصول حقوق کے لئے ہر قربانی کرنے پر آمادہ رہیں۔ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہر فتنہ کو دور کرنے کے لئے راستے رکھتے ہیں۔ اور ایسے رستے موجود ہیں کہ بغیر قانون شکنی کے ظالم سے ظالم انسان سے بھی اپنا حق انسان لے سکے۔ بعض قانون ایسے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ انہیں نہ مانا جائے مثلاً کوئی حکومت اگر یہ کہے کہ نماز نہ پڑھو تو ہم ہرگز تسلیم نہیں کریں گے ۔ مگر بعض ایسے مسائل ہیں جو جواز کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان میں مقابلہ تو کرنا چاہیے مگر نا فرمانی کی ضرورت نہیں۔ مثلاً حکومت اگر یہ فیصلہ کر دے کہ ایک سے زیادہ شادیاں نہ کی جائیں تو ہمارا فرض ہے کہ اس کا مقابلہ کریں۔ لیکن یہ مناسب نہیں کہ ہم دو شادیاں کر کے اس کی خلاف ورزی کریں۔ لیکن بعض احکام ایسے ہیں کہ ان کی ضرور نافرمانی کرنی پڑتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی حکومت حکم دے کہ روزہ نہ رکھو یا تبلیغ نہ کرو تو ہم اگرچہ اس سے لڑیں گے نہیں لیکن اس حکم کی نافرمانی ضرور کریں گے ۔ مکہ والے رسول کریم کو عبادت الہی روکتے تھے۔ اور اگرچہ آپ ان کا مقابلہ نہ کرتے لیکن نماز برابر پڑھتے۔ نماز برابر پڑھتے تھے۔ اسی طرح تبلیغ ہے اگر حکومت اس سے روکے تو اگرچہ اس کے مقابل پر ہم تلواریں نہیں اٹھا ئیں گے لیکن تبلیغ ضرور کرتے رہیں گے۔ اور ایسے احکام اگر انگریزی حکومت دے تو ہم ضرور اس کی نافرمانی کریں گے۔ لیکن یہاں کوئی ایسا قانون نہیں کہ سول نافرمانی کو جائز سمجھا جا سکے ۔ ہاں کشمیر میں ایسے قوانین ہیں مثلا یہ کہ انجمنیں نہ بناؤ۔ اور یہ ایسی ہی بات ہے جیسے کہا جائے کسی ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت مت کرو۔ پھر تقریر کی ممانعت ہے اور اس کے معنے دوسرے الفاظ میں ہی ہیں کہ تبلیغ نہ کرو۔ پھر اخبارات نکالنے کی آزادی نہیں حالانکہ یہ بھی تبلیغ کا ذریعہ ہے۔ حکومت پابندیاں تو عائد کر سکتی ہے جیسے مثلاً تقریر کرنی ہو تو اطلاع دے دی جائے تاکہ ہمارے آدمی وہاں موجود ہوں یا یہ کہ شارع عام پر تقریر نہ کی جائے ۔ لیکن یہ نہیں کہ تقریر کرو ہی نہیں۔ یا یہ کہ اخبار جاری ہی نہ کرو اور ایسے قوانین کی خلاف ورزی ہونی چاہئے۔ اور جب موقع آئے گا ہم کشمیر کے لوگوں کو ایسا کرنے کا مشورہ دیں گے۔ لیکن انگریز حکومت میں چونکہ انسانی ابتدائی حقوق کے خلاف کوئی قانون نہیں اس کے احکام کے خلاف سول نافرمانی جائز نہیں۔ کشمیر میں زمین کا لگان دینے کے متعلق ہمارا یہی خیال ہے کہ رعایا کو ضرور لگان دینا چاہئے اور اس سے انکار کسی جگہ بھی جائز نہیں۔ لگان وصول کرنا ہر حکومت کا حق ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ جب آپ کہتے ہیں میں بادشاہ ہوں تو کیا ہم روم والوں کو واجبات دینا بند