خطبات محمود (جلد 13) — Page 345
خطبات محمود ۳۳۵ سال ۱۹۳۲ء پس اگر تم سے کسی بھائی نے معافی مانگی ہے تو تمہیں اپنے نفوس میں غور کرنا چاہئے کہ آیا تم ظالم تھے یا وہ۔ مگر بہت دفعہ انسان اپنے نفس کے محاسبہ میں غلطی کر جاتا ہے۔ میں نے بڑے بڑے ظالموں کو دیکھا ہے۔ میں نے بڑے بڑے حق مارنے والوں کو دیکھا ہے کہ وہ اپنے دل میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم ظالم نہیں بلکہ مظلوم ہیں۔ پس میری وہ نصیحت نامکمل رہے گی اگر میں اس کے ساتھ ہی یہ نہ کہوں کہ اب تم مظلوموں کے معافی مانگ لینے کی وجہ سے خدا کے غضب کے خطرہ میں آگئے ہو اور قریب ہے کہ تم میں سے بعض خدا کے غضب اور اس کی گرفت میں شدید طور پر گرفتار ہو جا ئیں۔ پس اس خطرہ کو اپنے دلوں میں محسوس کرو اور اگر خود محسوس نہیں کر سکتے تو میں تمھیں خدا کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ خدا کا عذاب نہایت سخت ہوتا ہے ایسا سخت کہ اس سے زیادہ سخت اور کوئی عذاب نہیں ہوتا۔ پس اپنے نفوس کا محاسبہ اپنی آنکھوں سے نہیں ، بلکہ دوسروں کی نگاہوں سے کرو کیونکہ بہت دفعہ انسانی آنکھ اپنے ذاتی عیوب معلوم کرنے سے قاصر رہتی ہے اور اگر تم اس محاسبہ کے بعد یہ محسوس کرو کہ تم نے کسی کا حق مارا ہوا ہے تو تم گھبرا جاؤ اور ڈرو تا ایسا نہ ہو کہ خدا کی گرفت کے نیچے آجاؤ اور جلد سے جلد دو سرے کا حق ادا کر دو ۔ بلکہ میں تمہیں یہاں تک کہتا ہوں کہ تم میں سے جو شخص یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے فلاں کا اگر چہ حق دیتا ہے مگر رات گزار کر کل صبح دے دوں گا وہ اپنے دل میں ڈرے اور بہت ڈرے۔ اسے کیا معلوم کہ اس کے لئے صبح ہو گی یا نہیں اور اسے کیا معلوم کہ صبح تک اس کے لئے تو بہ کا دروازہ کھلا رہے گا یا بند ہو جائے گا کیونکہ کوئی نہیں جانتا کہ وہ رات بھر زندہ رہے گا یا نہیں۔ اور کوئی نہیں جانتا کہ پھر اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رے گایا نہیں ۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے دل میں یہ خیال کرتا ہے کہ میں نے فلاں کا حق دیتا ہے مگر آج نہیں اس پر کل غور کروں گا وہ بھی اپنے دل میں ڈرے اور بہت ڈرے اسے کیا معلوم کل کا دن اس کے لئے آئے گا یا نہیں اور اسے کیا معلوم کہ اگر کل کا دن اس کے لئے چڑھا بھی تو اس کے لئے توبہ کا دروازہ کھلا رہے گایا نہیں۔ لیکن اگر کوئی جانتا ہے کہ میں نے فلاں کا حق مارا ہوا ہے اور پھر بھی وہ اس کا حق ادا نہیں کرتا تو وہ اپنے آپ کو یقینی طور پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے خطرہ میں ڈالتا اور اپنی روح کو شیطان کے حوالے کرتا ہے اور ہر سیکنڈ جو اس کی زندگی کا گزرتا ہے اسے خطرہ اور عذاب کے زیادہ قریب کر تا جا رہا ہے ۔ پس جس قدر جلد سے جلد ہو سکے اپنے بھائی کا حق واپس کر دو بلکہ کوشش کرد کہ اس کے حق سے زیادہ اسے واپس کرو تا اس کی مظلومیت کا بدلہ بھی اتار سکو ۔ اگر تم میری اس